وی ایچ پی کے خط پر کانگریس کا حملہ، پون کھیڑا نے کہا- ’چوری کوئی اور کرے اور ثبوت کوئی اور دے؟‘

پون کھیڑا نے وی ایچ پی کے خط پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کے معاملے میں اصل ذمہ داروں سے سوال کرنے کے بجائے اپوزیشن سے ثبوت مانگے جا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کے معاملے میں وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی صدر آلوک کمار کے خط پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے مبینہ چوری کی ہے تو اس کے ثبوت اپوزیشن سے مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے ایک ویڈیو پیغام اور پارٹی کی ایکس پوسٹ کے ذریعے کہا کہ اس معاملے میں ہر روز نئے الزامات اور نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں، لیکن اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ آلوک کمار نے جانچ افسر کو خط لکھ کر پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو، رام گوپال یادو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے مبینہ چوری کے ثبوت طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عجیب منطق ہے کہ مبینہ چوری کوئی اور کرے اور ثبوت کسی اور سے مانگے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی طریقہ اختیار کیا جائے تو پھر میڈیا اداروں، سنت سماج اور ہر اس شخص کو نوٹس جاری کرنا پڑے گا جس نے اس معاملے پر سوال اٹھایا ہے۔


کانگریس رہنما نے کہا کہ اس معاملے پر خود ٹرسٹ سے وابستہ افراد اور دیگر شخصیات مختلف دعوے کر چکی ہیں، اس لیے ثبوت کی بات کرنے والوں کو پہلے ان لوگوں سے رجوع کرنا چاہیے جنہوں نے عوامی طور پر الزامات یا معلومات پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقصد حقیقت تک پہنچنا ہوتا تو اپوزیشن رہنماؤں سے ثبوت مانگنے کے بجائے ان افراد کے بیانات کی جانچ کی جاتی جو اس معاملے سے براہ راست وابستہ رہے ہیں۔

پون کھیڑا نے وشو ہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ہندو سماج کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کو پہلے اپنے دائرے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی تنظیم کی نیت واقعی مبینہ چوری کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی ہوتی تو وہ ایسے اقدامات کرتی جن سے حقیقت سامنے آتی، نہ کہ سیاسی مخالفین سے ثبوت طلب کیے جاتے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اصل مقصد مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانا نہیں بلکہ ہندو سماج کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوامی توجہ کو اصل معاملے سے ہٹانا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی یا نذرانے میں خردبرد کے الزامات سامنے آئے ہیں تو ان کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچائی عوام کے سامنے آ سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔