دیگر ممالک

اب خلیج میں ٹرمپ کی جائیدادوں کو نشانہ بنائے گا ایران، جاری کی گئی اہداف کی مکمل فہرست

ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں یا دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرتا ہے تو ایران پہلے سے زیادہ بڑا اور سخت جواب دے گا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>

امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)

 

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ کئی ایرانی علاقوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر رہا ہے، اور دوسری طرف ایران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس درمیان ایران نے ایک ایسا اعلان کیا ہے، جس سے خلیجی خطے میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے وابستہ کئی ہوٹلوں، ٹاورز اور گولف کلبوں جیسی جائیدادوں کو ممکنہ نشانہ قرار دیا ہے۔ یعنی ایران نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں موجود ٹرمپ کی جائیدادوں کو ہدف بنا کر حملے کرے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سعودی عرب، قطر اور عمان میں موجود ٹرمپ برانڈ کی کئی جائیدادوں کے نام فہرست میں شامل کیے ہیں۔ ان میں دبئی کا ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ریزیڈینشل ٹاور، ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب، جدہ کا ٹرمپ پلازا ٹاور، ریاض کا ٹرمپ ٹاور، سعودی عرب کا ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب وادی صفر، قطر کا ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب اینڈ ولا سیماسما اور مسقط کا ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل شامل ہیں۔ حالانکہ آئی آر جی سی نے یہ نہیں بتایا کہ ان مقامات پر کب یا کیسے حملہ کیا جا سکتا ہے۔ اس نئی پیش رفت کو ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس درمیان ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں یا دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرتا ہے تو ایران پہلے سے زیادہ بڑا اور سخت جواب دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں مداخلت کرتا ہے تو ایران اسے اپنی ’ریڈ لائن‘ پار کرنا تصور کرے گا۔

دراصل اس طرح کی دھمکیاں دونوں ہی جانب سے مسلسل دی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتا تو امریکہ اس کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ اس دھمکی کے بعد ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ٹھکانوں یا اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرتا ہے تو جواب صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔