امریکہ کا ایران پر حملہ، مسلسل چھٹی رات میزائل داغنے کا دعویٰ

امریکہ نے مسلسل چھٹی رات ایران پر میزائل داغے۔ اس فوجی تصادم کے درمیان وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکی حملوں سے بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بات چیت کی کوشش کر رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی فوج نے مسلسل  ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس شدید فوجی کارروائی کے درمیان بھی، وائٹ ہاؤس نے ایک اہم دعویٰ کیا، جس میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت کے راستے کھلے ہیں اور ایران امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈکے مطابق، یہ آپریشن جمعرات کی سہ پہر (امریکی وقت کے مطابق) شروع کیا گیا جس کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی اڈوں اور صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔حملے کے فوراً بعد، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی کہ امریکی میزائلوں نے ہرمز کے قریب ایک تزویراتی طور پر اہم جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔


ایرانی حکام نے ابھی تک اس حملے میں ہونے والے نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ حملوں سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں دونوں ممالک کے درمیان جاری خفیہ مذاکرات کا اشارہ دیا۔ لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ "ایران امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہمارے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے، کیونکہ وہ ہمارے فوجی حملوں کی وجہ سے تباہ کن اور بھاری نقصان اٹھا رہا ہے۔"