امریکی حملے کے بعد ایران کا منہ توڑ جواب، کویت پر ڈرون اور میزائل حملہ، بحرین میں بھی بجا سائرن
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، ساحلی رڈار اسٹیشنز، ڈرون لانچ سائٹس اور آئی آر جی سی کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان خلیجی ملک بحرین نے پورے ملک میں انتباہی سائرن بجا دیے ہیں اور لوگوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک نہایت اہم اور سرکاری سیکورٹی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ اس کے بعد بحرین میں سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ موڈ پر ہیں۔ بحرین نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے صرف سرکاری ذرائع پر دی جانے والی تازہ اطلاعات پر عمل کرنے کے لیے کہا ہے۔ دراصل امریکی فوج نے ایران کے خلاف منگل کی دیر رات شروع کیا گیا آپریشن بدھ کی صبح تک جاری رکھا۔ اس دوران امریکی فوج نے آئی آر جی سی کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے، جب ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، ساحلی رڈار اسٹیشنز، اینٹی شپ میزائل لانچرز، ڈرون لانچ سائٹس اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ بندر عباس، جزیرہ قشم اور سیریک کے اطراف موجود کئی فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے کیے گئے۔ بندر عباس میں واقع شہید حقانی بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بہرحال، بحرین کی وزارت نے اپنی تازہ جاری ایڈوائزری میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی شہری اور بحرین میں رہ رہے باشندے پر امن رہیں اور بلا تاخیر اپنے قریبی حفاظتی مقام یا شیلٹر میں جائیں۔
اس درمیان ایک انتہائی اہم خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ایران نے کویت کو نشانہ بناتے ہوئے کئی ڈرون اور میزائل داغ دیے ہیں۔ کویت کی فوج نے اس حملے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ فوج نے بتایا ہے کہ کویت کا ایئر ڈیفنس سسٹم اس وقت دشمن ملک کی جانب سے داغی جا رہی میزائل اور ڈرون کو انٹرسپٹ کر رہا ہے۔ آرمی جنرل اسٹاف نے وضاحت کی ہے کہ اگر دھماکے کی آوازیں آتی ہیں تو ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعہ دشمن کے حملوں کو روکنے کا نتیجہ تھا۔ فوج نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایران کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر بڑے ہوائی حملے کیے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو میں قریب 8 سیکنڈ کے اندر مسلسل 5 دھماکے ہوتے نظر آئے۔ حالانکہ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ ویڈیو ایران کی ہے یا کسی دوسرے علاقے کی۔ ویسے ایران پر تازہ حملے سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزر رہے 3 تجارتی جہازوں پر ہوئے حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ ایران نے ان جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
