ایرانی صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر ’انسٹاگرام‘
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشیکیان نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن اگرامریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران اس کا منھ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ہمیں تقسیم اور برباد کرنا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی ایرانی نہیں چاہتا کہ ملک کے لوگ تقسیم ہوں۔ صدر پزشیکیان کا یہ بیان ایک ریکارڈ کیے گئے ٹی وی انٹرویو کے ذریعہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ملک کے اتحاد اور خود انحصاری کو سب سے اوپر بتایا۔
Published: undefined
اسرائیل نے پھر سے حملہ کیا تو ایران جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی بحریہ خلیج عمان اور بحر ہند میں جنگی مشق کر چکی ہے۔ ایران اسرائیل پر سمندری حملہ کرنے کے لیے بھی مکمل تیاری کر چکا ہے۔ اس مرتبہ ایران نے جنگ سے متعلق اپنی کئی خامیوں کو دور کر لیا ہے اور اپنے اہم ٹھکانوں کی سیکوریٹی چاک و چوبند کر لی ہے۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق ایران روس اور چین کی مدد سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اپنے جوہری پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ایران نے اپنی سفارتی حکمت عملی تیز کر دی ہے۔ خامنہ ای کی ایٹمی سرگرمی سے نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ پریشان ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کسی بھی وقت اسرائیل کو حملے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور ایران میں دوسری جنگ کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایرانی جوہری ٹھکانوں اور فوجی اڈے پر فضائی حملے کیے تھے جس میں ایرانی فوج کے ٹاپ کمانڈر اور جوہری سائنس دانوں سمیت 1000 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا جس میں درجنوں اسرائیلی لوگوں کی جان چلی گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پر بمباری کی۔
Published: undefined
24 جون کو اسرائیل-ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ حالانکہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایران نے قطر میں امریکی ملٹری بیس پرحملہ کیا۔ ایران میں 600 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 5000 سے زیادہ زخمی ہوئے وہیں اسرائیل میں 28 لوگ مارے گئے اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز