
حادثہ زدہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ، تصویر ’ایکس‘
کینیا میں ایک سیاحتی ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہو گیا ہے، جس میں ایکواڈور کے محکمہ خفیہ کے ایک سربراہ کی بھی موت ہو گئی۔ اس حادثے میں 5 امریکی شہری سمیت مجموعی طور پر 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ کینیا میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران یہ دوسرا ہیلی کاپٹر حادثہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ وسطی کینیا میں بدھ کے روز ایک سیاحتی ہیلی کاپٹر کے حادثے کا شکار ہونے سے ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف اور 5 امریکی شہریوں سمیت تمام 7 افراد ہلاک ہو گئے۔ کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یہ بدھ کی صبح راجدھانی نیروبی کے شمال میں سامبورو کاؤنٹی میں پیش آیا۔ اس ہیلی کاپٹر نے لویسابا وائلڈ لائف ریزرو سے پرواز بھری تھی۔
کینیا ریڈ کراس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر حادثے کی ایک تصویر شیئر کی ہے۔ اس میں حادثے کی جگہ پر آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ ’ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ‘ (اے اے آئی ڈی) کے ڈائریکٹر فریڈرک کابونگے نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہیلی کاپٹر میں 7 افراد سوار تھے، جن میں ایک پائلٹ اور 6 مسافر تھے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ حادثے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔
ریسکیو آپریشن میں پیش آنے والی مشکلات سے متعلق سامبورو کاؤنٹی کے پولیس چیف ڈیوڈ نکوروئی نے کہا کہ ’’گہری تاریکی اور حادثے والی جگہ پر موجود پیچیدگی کے باعث آپریشن کو کل تک کے لیے روک دیا گیا ہے۔‘‘ ایکواڈور کے ٹرانسپورٹ وزیر رابرٹو لوکے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں لاطینی امریکی ملک ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف مشیلے سینسی-کونتوگی اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔ لوکے نے ایکس پر کہا کہ ’’آج مشیلے اور اسٹیفنی ہمیں بہت جلد چھوڑ کر چلے گئے۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر ان کے بچوں اور والدین کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔‘‘
42 سالہ محکمہ خفیہ کے سربراہ مشیلے ایک کاروباری شخصیت بھی رہے ہیں، جنہیں تقریباً 2 سال پہلے 2024 میں ایکواڈور کے نیشنل انٹیلی جنس سینٹر کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ایکواڈور کے دائیں بازو کے صدر ڈینیئل نوبوا کے انتہائی قریبی ساتھی تھے۔ نوبوا نے منشیات کے کارٹیل کے خلاف واشنگٹن کی نئی لڑائی میں اپنے ملک کو امریکہ کا ایک اہم شراکت دار بنایا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔