عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملہ، 11 ہندوستانی ملاح زخمی: وزارت خارجہ
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت جہاز پر ایک پروجیکٹائل آ کر لگا۔ حملے میں عملے کے 12 ارکان زخمی ہوئے، جن میں 11 ہندوستانی شہری ہیں۔

ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے آبنائے ہرمز سے گزر رہے کمرشیل جہاز پر حملے کی اطلاع دی ہے۔ ایم ای اے نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔ بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہے پناما کے پرچم والے جہاز ’ایم ٹی آن پیس‘ (آئی ایم او 9893204) پر منگل (6 اکتوبر) کو حملہ کیا گیا۔ جہاز پر سوار 19 رکنی عملے میں 17 ہندوستانی شہری تھے، جن میں سے مجموعی طور پر 12 زخمی ہو گئے۔ ان میں سے 11 ہندوستانی ملاح تھے۔
ہندوستان نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے تجارتی جہازوں پر مسلسل ہو رہے حملوں کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت جہاز پر ایک پروجیکٹائل آ کر لگا۔ حملے میں عملے کے 12 ارکان زخمی ہوئے، جن میں 11 ہندوستانی شہری ہیں۔ اس میں آگے بتایا گیا کہ عمانی افسران کی مدد سے تمام زخمی عملے کے ارکان کو جہاز سے نکال کر بحفاظت عمان کے خصب لے جایا گیا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان نے اس دوران مدد کے لیے عمانی افسران کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر مسلسل ہو رہے حملوں کے واقعات ہندوستان کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ہندوستان نے خطے میں امن استحکام کے مفاد میں ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپنی اپیل دہرائی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’خطے میں تجارتی جہازوں، ملاحوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی آبی راستوں کے ذریعہ جہاز رانی اور تجارت کو جلد از جلد بحال کیا جانا ضروری ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ یہاں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی آبی راستوں میں محفوظ جہاز رانی اور بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیوں کو یقینی بنانا علاقائی امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
