راہل-پرینکا کو پولیس نے حراست میں لیا، کانگریس نے کہا- ’سب یاد رکھا جائے گا‘
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کی منسوخی کے مطالبے پر آکاشوانی بھون میں جاری دھرنا 8 گھنٹے بعد ختم ہو گیا۔ راہل، پرینکا سمیت کئی رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لیا

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) منسوخ کرنے کے مطالبے کو لے کر آکاشوانی بھون احاطے میں جاری اپوزیشن کا دھرنا تقریباً 8 گھنٹے بعد ختم ہو گیا۔ دہلی پولیس نے کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کے کئی دیگر رہنما انتخابی بے ضابطگیوں کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے منگل کی دوپہر سے آکاشوانی بھون احاطے میں دھرنے پر بیٹھے تھے۔ پولیس نے رات تقریباً 8 بجے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کانگریس اور بعض اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو حراست میں لیا اور انہیں بس میں بٹھا کر وہاں سے لے گئی۔
اس سے قبل انڈیا اتحاد کے مختلف اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ اسٹریٹ سے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالا تھا۔ پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا، جس کے بعد کئی ارکان پارلیمنٹ اور رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچنے کی کوشش میں آکاشوانی بھون کے احاطے میں داخل ہوگئے تھے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو منسوخ کیا جائے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق اپنے خدشات پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔
دھرنے کے خاتمے سے قبل کانگریس نے سوشل میڈیا پر حکومت پر سخت حملہ کیا۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آکاشوانی بھون میں پولیس بھیج کر راہل گاندھی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو زبردستی ہٹوا رہے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ وہ ’پولیس کے ذریعے دباؤ‘ سے خوفزدہ نہیں ہوگی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
کانگریس نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’سب یاد رکھا جائے گا‘ اور الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانا چاہتی ہے۔ پارٹی نے گیانیش کمار کے خلاف بھی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا۔ یہ احتجاج اس وقت ہوا جب اپوزیشن ارکان نے انتخابی نظام میں بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرنے کی مہم تیز کر رکھی ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
