
تصویر/ آئی اے این ایس
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی اپیل پر سیوٹا میں تارکین وطن کے بحران کے معاملے پر یورپی یونین (ای یو) کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس منگل کے روز طلب کیا گیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم نے ہفتے کے روز ایک خط لکھ کر اس اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے یورپی یونین اور دیگر یورپی اداروں سے کہا تھا کہ یہ صرف اسپین کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری یورپی یونین کی بیرونی سرحد اور مشترکہ سلامتی سے متعلق معاملہ ہے۔ اجلاس بلانے کا فیصلہ یورپی یونین کے رکن ممالک اور فرونٹیکس بارڈر ایجنسی کے ماہرین کی ٹیم نے مشترکہ طور پر کیا۔ جمعرات سے جمعہ کے درمیان یعنی صرف24 گھنٹوں میں شمالی مراکش سے اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں 50 ہزار سے زائد تارکین وطن اچانک داخل ہو گئے تھے۔
اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق اس دوران 67 افراد ہلاک ہوئے۔ کچھ سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ کچھ بھگدڑ اور افراتفری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وزرائے داخلہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا، کیونکہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس مسئلے پر اختلافات کو دور کرنے اور مائگریشن کے معاملے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ دوسری جانب اسپین نے کہا کہ سیوٹا میں تارکین وطن کا داخلہ رات کے وقت رک گیا، کیونکہ پولیس نے مراکش کے ساتھ سرحد پر 500 میٹر (1640 فٹ) طویل تیرتا ہوا حفاظتی بیریئر نصب کرنا شروع کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’میں اسپین کے وزیرِ اعظم کے رابطے میں ہوں اور ہم ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
دوسری جانب اٹلی، ڈنمارک، پولینڈ اور سویڈن نے ہفتے کے روز ایک اجلاس میں اسپین کے مؤقف پر تنقید کی۔ پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی ممالک کے ردعمل پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بحران کی گھڑی میں یکجہتی دکھانے کے بجائے بعض ممالک نے سیاسی الزام تراشی کو ترجیح دی، جس سے یورپی اتحاد کمزور ہوا۔ ان کے مطابق سیوٹا پہنچنے والے تقریباً تمام تارکین وطن کو 48 گھنٹوں کے اندر مراکش واپس بھیج دیا گیا اور کوئی بھی اسپین کے مرکزی علاقے یا یورپ کے دیگر حصوں تک نہیں پہنچ سکا۔ سیوٹا میں مراکش کی جانب سے 50 ہزار سے زائد افراد نے داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران بھگدڑ اور افراتفری میں 67 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے کے بعد اسپین نے سرحدی سیکورٹی مزید سخت کرتے ہوئے سمندری علاقے میں 500 میٹر طویل تیرتے ہوئے حفاظتی بیریئر نصب کر دیے، تاکہ آئندہ اس طرح کی دراندازی کو روکا جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔