برکس اجلاس 2026: دائرے میں گفت و شنید، پہرے میں کاروبار... ڈاکٹر اجیت راناڈے

برکس اجلاس میں جمی برف پگھلنے کے باوجود چین کے ساتھ معاشی انحصار، سرحد تنازعہ اور مینوفیکچرنگ کے پیچیدہ چیلنجز برقرار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/BricsIndia2026">@BricsIndia2026</a></p></div>
i

دہلی میں ابھی ابھی اختتام پذیر ہوئے برکس سربراہ اجلاس کو شاید کسی بہت جارحانہ یا تاریخی اعلامیے کے لیے یاد نہ رکھا جائے۔ لیکن صرف اسی بات پر الجھے رہنا ہندوستان کے لیے اس کی سفارتی اہمیت کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا برکس سربراہ اجلاس واقعی ہند-چین تعلقات کے درمیان جمی برف کو پگھلانے میں مددگار ثابت ہوا؟

ہندوستان کی سفارتی کامیابی صرف یہ نہیں تھی کہ اس نے اس اجلاس کا انعقاد کیا (وہ تو ویسے بھی اس بار برکس کا سربراہ تھا)، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ اس نے ان ممالک کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کروانے میں کامیابی حاصل کی جن کے مفادات اکثر آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں۔ اپنی تمام تر کشیدگی کے باوجود ایران اور متحدہ عرب امارات ایک ہی میز پر بیٹھ سکے، چین نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کرنے والے مسودے پر دستخط کیے، اور رکن ممالک اپنے بالکل مختلف خیموں کے باوجود مغربی ایشیا میں امن مذاکرات پر متفق ہو سکے۔ ہندوستان نے 2023 میں جی-20 کی صدارت کے دوران بھی کچھ ایسا ہی کر دکھایا تھا، جب یوکرین جنگ پر شدید اختلافات کے درمیان ایک مشترکہ متفقہ زبان تلاش کر لی گئی تھی۔


اجلاس سے الگ نریندر مودی اور شی جنپنگ کی دو طرفہ ملاقات اس مشترکہ بیان سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ 7 برس میں پہلی بار جنپنگ ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات، بازار تک رسائی، تجارت میں ساختی عدم توازن اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے باہمی رابطے پر تبادلۂ خیال کیا۔ سرکاری بیانات میں سرحد پر امن برقرار رکھنے کا بھی نپا تلا ذکر کیا گیا۔ اسے ابھی سے یہ مان لینا کہ دونوں ملکوں میں ’مصالحت‘ ہو گئی ہے، عجلت ہوگی، لیکن یہ آگے بڑھنے کا ایک بڑا موقع ضرور ہے۔ ہندوستان اور چین پڑوسی ہیں، جو مل کر پوری انسانیت کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جغرافیہ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ نہ ہی ان کا سرحدی تنازعہ راتوں رات ختم ہونے والا ہے۔ 1988 میں راجیو گاندھی کو دی گئی ڈینگ شیاؤ پنگ کی وہ مشہور نصیحت آج بھی اتنی ہی اہم ہے کہ اگر ہماری نسل سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کی سمجھ داری نہیں دکھا پا رہی ہے تو اسے آنے والی زیادہ سمجھ دار نسل کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ گلوان کو بھلا دیں، جہاں 2020 میں ہندوستان کے 20 جانباز فوجی شہید ہوئے تھے۔ سرحدوں کا ہر حال میں مستعدی کے ساتھ دفاع ہونا چاہیے۔ لیکن سرحد پر کشیدگی کو پورے دو طرفہ تعلقات کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دراصل ہندوستان اور چین پہلے ہی مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے آگے بڑھنے پر کام کر رہے ہیں۔ بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس کے دوران انہوں نے پاکستان، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیارات کو مسترد کرنے والی مشترکہ تجویز پر دستخط کیے۔ اگر ایسے تضادات کو ایس سی او اور برکس کے کثیر ملکی پلیٹ فارموں پر حل کیا جا سکتا ہے تو دو طرفہ سطح پر بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان یہ الگ الگ خانے ہیں: سرحدی سلامتی؛ تجارت اور سرمایہ کاری؛ ٹیکنالوجی؛ ندیاں اور ان کے آبی حقوق؛ ہمالیائی ماحولیات؛ موسمیاتی تبدیلی؛ عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات؛ جوہری عدم پھیلاؤ؛ یونیورسٹیاں، سیاحت اور ثقافت؛ اور بین الاقوامی تنازعات پر انتخابی تعاون۔


عملیت پسندی کی اقتصادی بنیاد ٹھوس اور ناقابل تردید ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ تقریباً 112 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود ہمارا انحصار صرف سستے کھلونوں تک محدود نہیں ہے۔ چین ہمیں زندگی بچانے والی ادویات کے لیے ضروری اے پی آئی (خام مال)، الیکٹرانک پرزے، بھاری مشینری، شمسی آلات اور نایاب معدنیات فراہم کرتا ہے۔ گلوان کے بعد ہندوستان نے چینی سرمایہ کاری اور تکنیکی رسائی پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ پھر بھی درآمدات بڑھتی گئیں۔ سیاسی دوری پیدا کرنے کی کوششوں سے ہمارا اقتصادی انحصار ذرہ بھر کم نہیں ہوا۔

2019 کے بینکاک آسیان سربراہ اجلاس میں آر سی ای پی (علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری) سے ہندوستان کا اچانک باہر نکلنا ہمارے لیے سنگین انتباہ ہونا چاہیے۔ ہندوستان نے نو سال تک اس پر مذاکرات کیے، لیکن چینی درآمدات کی بھرمار کے مبینہ خوف کے باعث 2019 میں اچانک مذاکرات سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ چینی درآمدات پھر بھی ہندوستانی بازار میں داخل ہوتی چلی گئیں۔ ہم آر سی ای پی میں دی گئی رعایت کے تحت ان شرائط کو 15 سال تک ٹال سکتے تھے۔ اس معاہدے سے باہر نکل کر ہندوستان نے ایشیائی پیداواری نیٹ ورک کا لازمی حصہ بننے کا موقع گنوا دیا۔ تعلقات بلاشبہ یک طرفہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن چین کو بھی ہندوستان کی اتنی ہی ضرورت ہے۔


چین کے پاس زبردست اقتصادی طاقت ضرور ہے، لیکن اس کی اپنی کمزوریاں بھی ہیں۔ اس کی آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے، کام کرنے والی آبادی سکڑ رہی ہے، رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بحران میں ہے، قرض کا بھاری بوجھ ہے، گھریلو کھپت کمزور بنی ہوئی ہے اور اس کی اضافی صنعتی صلاحیت کو نئی غیر ملکی منڈیوں کی سخت ضرورت ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ آبادیاتی دباؤ، گرتی ہوئی پیداواریت اور سرمایہ کاری پر کم ہوتے منافع کے باعث چین کی درمیانی مدت کی شرح نمو سست رہنے والی ہے۔

دوسری طرف ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیوں میں سے ایک ہے، جس کے پاس نوجوان افرادی قوت ہے اور یہ اس چینی سرمائے کے لیے ایک موزوں ٹھکانہ ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں صحیح حکمت عملی ’چین کو پوری طرح باہر رکھنے‘ کی نہیں، بلکہ یہ کہنے کی ہونی چاہیے کہ ’’اگر آپ ہندوستانی بازار تک رسائی چاہتے ہیں تو یہیں بنائیے، روزگار دیجیے، پرزے یہیں سے خریدیے اور ہندوستان سے ہی برآمد کیجیے۔‘‘ اس کی شروعات بی وائی ڈی کے ساتھ ہندوستان میں فیکٹری لگانے کے لیے رکی ہوئی بات چیت کو دوبارہ شروع کر کے کیوں نہیں کی جا سکتی؟ بی وائی ڈی دنیا کی معروف الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی ہے۔ ہندوستان میں توسیع کی اس کی خواہشات گلوان کے بعد سرمایہ کاری پر لگی روک کی نذر ہو گئیں۔ اسے مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے، لیکن ہندوستان کی اپنی شرائط پر... یعنی مقامی مینوفیکچرنگ، ہندوستانیوں کو روزگار، مقامی سپلائرز کی ترقی، ڈاٹا کی سخت حفاظت اور مینوفیکچرنگ میں ہندوستانی ویلیو ایڈیشن کی لازمی شرط کے ساتھ۔


پریس نوٹ 3 (2020 سیریز)، جس نے چین سے آنے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر شکنجہ کسا تھا، اسے اندھے شک کے بجائے خطرے پر مبنی جانچ پڑتال کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔ ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورک میں چینی حصے داری کا سوال اس غیر فعال چینی سرمائے سے بالکل الگ ہے جو کسی شاہراہ، گودام، آبی منصوبے یا آب پاشی کے نظام کو مالی مدد دے رہا ہو۔ یہ ’دائرے میں رہ کر محدود برتاؤ‘ کی وہ عملی پالیسی تجویز ہے جسے نتن پائی، اجے شاہ اور اس مصنف نے ستمبر 2025 میں پیش کیا تھا۔ اس کا سیدھا اصول ہے: انتظامی کنٹرول دیے بغیر سرمایہ قبول کیجیے، حساس چینی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر باہر رکھیے اور بنیادی ڈھانچے کے غیر حساس شعبوں سے شروعات کیجیے۔

کچھ چھوٹے دروازے فوری طور پر کھولے جانے چاہئیں۔ چینی سیاحوں، کاروباری نمائندوں، ماہرین تعلیم اور انجینئروں کے لیے ویزا ضوابط آسان کیے جائیں۔ چینی سیاحوں کے لیے بودھ گیا، سارناتھ، کشی نگر اور نالندہ کو جوڑ کر ایک خصوصی بدھ سرکٹ تیار کیا جائے۔ یونیورسٹیوں کے باہمی تعاون کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ سنیما، کھیل کود اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کو چین کی وسیع گھریلو صارف منڈی تک رسائی کے لیے کہیں زیادہ مضبوطی سے اپنی بات رکھنی ہوگی۔ تجارتی خسارے کا حل صرف چینی درآمدات کم کرنا نہیں ہو سکتا۔ اصل راستہ یہ ہے کہ ہندوستانی ادویات، غذائی مصنوعات، آئی ٹی خدمات، تفریح اور دیگر مصنوعات بڑے پیمانے پر چینی بازار میں جگہ پائیں۔


کاروباری آسانی کی درجہ بندی میں نچلے مقام اور مغربی طرز کے جمہوری اداروں کے فقدان کے باوجود چین کی غیر معمولی اقتصادی ترقی اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اسے اس کی زمینی حقیقت کے ساتھ سمجھنا ہوگا، نہ کہ کتابی نظریات کی عینک سے۔ ہندوستان کو نہ تو چین کی اندھی نقل کرنی چاہیے اور نہ ہی اس سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کو سیکھنا چاہیے، مقابلہ کرنا چاہیے اور اپنی اسٹریٹجک صلاحیتیں تیار کرنی چاہئیں... خصوصاً ایرو اسپیس، دفاع، سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات، فارماسیوٹیکلز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں۔

چین کے ساتھ تعلقات میں آنے والی نرمی کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان امریکہ، یورپ، جاپان یا کواڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کمزور کرے۔ ہندوستان کو برکس، ایس سی او، کواڈ، جی-20 اور دیگر تمام مفید بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر بیک وقت سرگرم رہنا چاہیے۔ ہندوستان کے مستقبل کے سفارتی فیصلے ان میں سے کسی ایک تعلق کے یرغمال نہیں بن سکتے۔ اسی کو حقیقی ’اسٹریٹجک خود مختاری‘ کہتے ہیں۔ اگلے سال برکس کی صدارت چین کے ہاتھوں میں ہوگی۔ آنے والے بارہ ماہ سفارتی پہل کے لحاظ سے انتہائی اہم ہیں۔ تعلقات پر جمی برف پگھلانے کے لیے جذباتی دوستی یا آنکھیں بند کر کے کیے جانے والے اعتماد کی نہیں، بلکہ باہمی مفادات اور دور اندیش سفارتی تخیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ضروری ہو، وہاں اپنی سرحدوں کی حفاظت کیجیے۔ جہاں مقابلہ ناگزیر ہو، وہاں ڈٹ کر مقابلہ کیجیے۔ جہاں ممکن ہو، تعاون کیجیے۔ اور اس مکالمے سے جو وقت اور موقع ملے، اس کا استعمال خود کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے میں کیجیے۔

(مضمون نگار ڈاکٹر اجیت راناڈے معروف ماہر معاشیات ہیں۔ بشکریہ: دی بلین پریس)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔