’ملک پر سسٹم کا قبضہ ہے، جسے 6 لوگ کنٹرول کر رہے ہیں‘، راہل گاندھی نے سسٹم کی واضح تصویر سامنے رکھ دی

راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران مودی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا سسٹم تیار کیا گیا ہے، جس میں نوجوانوں کو ’اندھ بھکت‘ بنایا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

’’اسٹوڈنٹس ہندوستان کے مستقبل ہیں، ان کے بغیر ملک مضبوط نہیں ہو سکتا۔ اسٹوڈنٹس کے اندر تجسس ہوتا ہے، وہ نفرت نہیں کرتے، نرم گفتار ہوتے ہیں، بے خوف ہوتے ہیں، صابر ہوتے ہیں، ایماندار ہوتے ہیں۔ لیکن آج ہندوستان کے اسٹوڈنٹس خوش نہیں ہیں، کیونکہ وہ پریشان ہیں، ان کے اوپر بہت دباؤ ہے، انھیں مستقبل روشن دکھائی نہیں دے رہا۔‘‘ یہ تبصرہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج مدھیہ پردیش کے اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے ہزاروں طلبا و نوجوانوں کی موجودگی میں سسٹم کے ذریعہ طلبا کو ہراساں کیے جانے کی تفصیل بیان کی۔

راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران مودی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا سسٹم تیار کیا گیا ہے، جس میں نوجوانوں کو ’اندھ بھکت‘ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے سسٹم کی واضح تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’سسٹم میں الگ الگ لیئرس ہیں، اور اعلیٰ سطح پر 6 لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی کے مطابق یہ 6 لوگ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال، آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت، صنعت کار گوتم اڈانی اور انل امبانی ہیں۔


راہل گاندھی نے تقریب میں یہ بھی بتایا کہ مذکورہ بالا 6 لوگ سسٹم میں کون کون سی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ انھوں نے بے باکانہ انداز میں کہا کہ ’’نریندر مودی جی اس پورے سسٹم کو چلاتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس کو مارنے، کیل والی لاٹھی سے پٹائی کرنے، پیلٹ گن سے نشانہ بنانے کا کام امت شاہ سنبھالتے ہیں۔ اجیت ڈووال، جو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہیں، وہ غیر رسمی بات چیت میں کہتے ہیں کہ اگر ہندوستان کو کنٹرول کرنا ہے تو صرف 500 لوگوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ اجیت ڈووال سے متعلق وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انھوں نے ہندوستان کے ٹیلی فون، واٹس ایپ، فیس بک، کمیونکیشن پر قبضہ کر رکھا ہے اور فون ٹیپنگ جیسے عمل سے اہم جانکاریاں حاصل کر نریندر مودی اور امت شاہ تک پہنچاتے ہیں۔

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے بارے میں بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’موہن بھاگوت جی نظریات اور آئیڈیولوجی کی بات کرتے ہیں۔ ان کی تنظیم کو ہزاروں کروڑ روپے دیے جاتے ہیں جس سے وہ اسکول، کالجز اور دیگر انسٹی ٹیوشن چلاتے ہیں۔‘‘ صنعت کاروں گوتم اڈانی اور انل امبانی سے متعلق انھوں نے کہا کہ یہ لوگ فائنانس کرتے ہیں۔ جو بھی پیسہ کانٹریکٹ وغیرہ سے یہ کماتے ہیں، سبھی گھما کر بی جے پی کو دے دیا جاتا ہے جس سے نریندر مودی کی مارکیٹنگ ہوتی ہے اور پورا سسٹم چلتا ہے۔ راہل گاندھی یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس لیئر کے نیچے الگ الگ لوگ ہیں اور مختلف اداروں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ مثلاً بزنس، عدلیہ، بیوروکریسی، ایجوکیشن، میڈیا، انٹرٹینمنٹ، اسپورٹس... ہر ادارہ پر سسٹم نے اپنا ایک نہ ایک آدمی بیٹھا رکھا ہے۔ مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں سچن تندولکر، کپل دیو اور دیگر کرکٹرس کے ہوتے ہوئے سسٹم نے امت شاہ کے بیٹے کو کرکٹ کا پورا ٹھیکہ دے دیا ہے۔


اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے تعلم سے متعلق کچھ اہم حقائق بھی سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن آج تعلیم کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کچھ اعداد و شمار سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ ’’یو پی اے حکومت میں بجٹ کا 4.6 فیصد تعلیم میں جاتا تھا، جسے اب 2.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں 1.5 کروڑ اسکالرشپس چھین لی گئی ہے، آج ہندوستان میں 10 لاکھ اساتذہ کی پوسٹ خالی پڑی ہے۔‘‘ انھوں مزید سچائی سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ملک میں ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں، جن میں سے 55 فیصد اسکول مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے تھے۔ حالات ایسے ہیں کہ 100 میں سے صرف 14 بچوں کو ہاسٹل مل سکتا ہے۔ جب انفراسٹرکچر منہدم ہوتا ہے تو اسٹوڈنٹس خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ ایسا تبھی ہوتا ہے جب حکومت ایجوکیشن میں کم پیسہ ڈالتی ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کو بدلنا بہت ضروری ہے، اور اس کے لیے ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں طلبا کی ٹوٹی ہوئی امید واپس آئے اور وہ پھر سے تعلیم اور سسٹم پر اعتماد کرنا شروع کریں۔ اسٹوڈنٹس اپنی قوت، تجسس، ایمانداری و محنت کے زور سے ملک کو آگے بڑھائیں۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’آج ملک میں جو تشدد اور نفرت پھیلائی جا رہی ہے، اسے طلبا ہی مٹا سکتے ہیں، اسے اَندھ بھکت کبھی نہیں مٹا سکتا۔ ہم طلبا کا ہندوستان چاہتے ہیں، اَندھ بھکتوں کا نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔