اسپین-مراکش تنازعہ میں مہلوکین کی تعداد 67 پہنچی، 84 ہزار آبادی والے شہر سیوٹا پہنچ گئے تھے 60 ہزار درانداز
غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل مراکشی افراد کا منظر ایسا تھا کہ کوئی سمندر میں تیرتا دکھائی دے رہا تھا تو کوئی فلوٹنگ ٹیوب پکڑے ہوئے تھا، کچھ لوگ کشتی پر سوار تھے۔ سبھی لوگ سرحد پار کرنا چاہتے تھے۔

اس وقت اسپین دنیا بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ افریقہ کے شمال میں واقع اسپین کے شہر سیوٹا میں اچانک پڑوسی ملک مراکش سے تقریباً 60 ہزار غیر قانونی تارکین وطن داخل ہو گئے۔ ان لوگوں نے سمندر اور زمینی راستے سے دراندازی کی۔ 84 ہزار کی مجموعی آبادی والے اس شہر میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد آبادی کے 70 فیصد سے زیادہ ہو گئی تھی۔ سیکورٹی فورسز نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی۔ اسپین کی حکومت کی جانب سے ہفتہ کے روز دی گئی معلومات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔
موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسپین نے سیکورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے سمندر کی جانب جانے والی بریک واٹر سرحد پر تارکین وطن کو روکنے کے لیے ایک نیا بلاکر بیریئر لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اسپین سے ملحق کچھ ممالک نے بھی اپنے یہاں سرحدوں پر سیکورٹی سخت کر دی ہے اور اٹلی میں تو جمعہ کے روز ہی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
بہرحال، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مراکشی افراد کا منظر ایسا تھا کہ کوئی سمندر میں تیرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا تو کوئی فلوٹنگ ٹیوب پکڑے ہوئے تھا۔ کچھ لوگ کشتی پر سوار تھے۔ سبھی لوگ کسی بھی طرح سرحد پار کرنا چاہتے تھے۔ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسپین کی حکومت کو شہر سیوٹا میں فوج تعینات کرنی پڑی۔ سیکورٹی فورسز کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کرنی پڑی۔
اس درمیان اسپین کے ایک افسر نے بتایا کہ 37 ہزار لوگ اپنی مرضی سے واپس مراکش لوٹ چکے ہیں۔ اب بھی ہزاروں لوگ یہاں پھنسے ہوئے ہیں، جو فٹ پاتھوں اور کھلے مقامات پر رہ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں تقریباً 7 ہزار نابالغ اور بچے ہیں۔ تازہ واقعہ کے بعد دنیا بھر میں تارکین وطن کی اموات اور ان کے انسانی حقوق کو لے کر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسپین کا جس شہر سیوٹا کو لے کر اس وقت ہنگامہ برپا ہے، وہ چاروں طرف سے مراکش سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے باوجود یہاں حکمرانی اسپین کی ہے۔ یورپی یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اس شہر میں دراندازی کرتے رہتے ہیں۔ اسپین اور مراکش کے درمیان سمندری راستے سے سب سے کم فاصلہ تقریباً 14 کلومیٹر ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ جو بھی سیوٹا پہنچنے کی کوشش کرے گا، اسے سماعت کے بغیر واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد اس سلسلے میں کافی افواہیں پھیل گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجوم سرحد پار کر کے سیوٹا میں داخل ہونے لگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
