دیگر ممالک

کناڈا کے انتخاب میں مداخلت کر رہا چین، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے لگایا خطرناک کھیل کھیلنے کا الزام

کناڈا کی خفیہ ایجنسیوں نے حالیہ انتخابات میں بیجنگ حامی امیدواروں کے ایک خفیہ نیٹورک کا انکشاف کیا ہے، افسران نے ٹروڈو کو بتایا کہ 2019 کے انتخاب میں چین نے کم از کم 11 امیدواروں کی حمایت کی تھی۔

جسٹن ٹروڈو، تصویر آئی اے این ایس
جسٹن ٹروڈو، تصویر آئی اے این ایس 

کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے چین پر ان کے ملک کے انتخاب میں مداخلت کرنے اور جمہوریت کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وزیر اعظم ٹروڈو نے کہا کہ ہم نے اپنے انتخابی عمل اور ہمارے نظام کی سالمیت کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ترکیب اختیار کیے ہیں اور اپنی جمہوریت اور اداروں کو غیر ملکی مداخلت سے بچانے کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔

Published: undefined

ٹروڈو کا کہنا ہے کہ بدقستی سے چین سمیت کچھ دیگر ممالک ہمارے اداروں اور ہماری جمہوریت کے ساتھ جارحانہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کناڈا کی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ حال کے انتخابات میں بیجنگ حامی امیدواروں کے ایک خفیہ نیٹورک کی شناخت کے بعد وزیر اعظم نے یہ الزام عائد کیا ہے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے مبینہ طور پر وزیر اعظم ٹروڈو کو بتایا کہ 2019 کے فیڈرل الیکشن میں چین نے کم از کم 11 امیدواروں کی حمایت کی تھی۔ نامعلوم خفیہ افسران کا حوالہ دیتے ہوئے گلوبل نیوز نے بتایا کہ بیجنگ نے امیدواروں کو مالی امداد کی تھی اور صلاحکار کی شکل میں کام کیا تھا۔ ایک معاملے میں 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک کی مدد کی گئی۔

Published: undefined

یہ ساری مہم مبینہ طور پر ٹورنٹو میں واقع چین کے کمرشیل سفارتخانہ سے کنٹرول کیا گیا تھا۔ بی بی سی نے گلوبل نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی سیکٹر میں اثر حاصل کرنے کے لیے کناڈا کے سابق افسران کو رشوت دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ مانا جاتا ہے کہ چین نے دونوں اہم سیاسی پارٹیوں، ٹروڈو کی لبرل پارٹی اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین کی کوشش کامیاب رہی یا نہیں۔ افسران کے مطابق چین نے کناڈا کی زمین پر غیر قانونی پولیس اسٹیشن کھول رکھے تھے۔ گزشتہ ماہ رائل کینیڈین ماؤنٹیڈ پولیس نے کہا کہ وہ نام نہاد ’پولیس اسٹیشنوں‘ کی جانچ کر رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined