ایل پی جی بحران: قطار بند عورتوں کی ہی نہیں، مردوں کی آنکھیں بھی نم، کانگریس نے کہا ’مودی حکومت چادر تان کر سو رہی‘
کانگریس نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی جی، اپنے شاہی محل سے نکلیے اور زمینی حالات دیکھیے۔ عوام رو رہی ہے، تڑپ رہی ہے۔‘‘

ایل پی جی سلنڈر کا بحران ملک میں شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت لگاتار دعویٰ کر رہی ہے قلت والی کوئی بات نہیں ہے۔ برسراقتدار طبقہ سے جڑے لیڈروں کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ قلت کی افواہ پھیلا رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل کر گیس ایجنسی کے باہر قطار بند ہو گئے ہیں۔ حالانکہ زمینی حقیقت اس سے بہت الگ ہے۔ کچھ علاقوں میں لوگ ایل پی جی سلنڈر کے 5-4 دنوں سے لائن لگا رہے ہیں، لیکن انھیں سلنڈر نہیں مل رہا۔ قطار بند کچھ خواتین تو اپنی مصیبت بیان کرتے کرتے آبدیدہ ہو گئیں، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں۔ خواتین ہی نہیں، کچھ مرد حضرات کی بھی آنکھیں میڈیا کے سامنے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے نم ہو گئیں۔
کانگریس نے اس معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس نے تو کئی ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں پریشان حال لوگوں کو دکھایا گیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کی فوٹیج بھی کانگریس نے شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کے لیے لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور سبھی بے حال ہیں۔ کانگریس کے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کردہ ایک ویڈیو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک شخص اس قدر بے بس نظر آیا کہ حلق سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نم تھیں اور بڑی مشکل سے بس اتنا کہہ پایا کہ ’’رات سے کھڑے ہیں، گیس نہیں مل رہا... مت پوچھیے۔‘‘ بہت پوچھنے پر اس شخص نے بتایا کہ رات میں 3 بجے سے لائن میں ہے اور صبح 11 بجے تک کچھ حاصل نہیں ہوا۔ وہ خود بھی رات سے بھوکا ہے اور اس کے گھر والے بھی بھوکے ہیں۔
کانگریس نے ایل پی جی سلنڈر کے لیے ایک ہفتہ سے پریشان ایک خاتون کی ویڈیو بھی شیئر کی، جو مودی حکومت سے پوری طرح بدظن نظر آئی۔ اس نے کہا کہ ’’میرے گھر میں کھانا نہیں بن رہا۔ ایک ہفتہ سے دوڑ رہے ہیں، لیکن گیس سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے خاتون کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں کہتی ہے ’’بچوں کو ہوٹل سے کچھ لے کر کھلا دیتے ہیں اور خود بھوکے رہتے ہیں۔ لائن لگانے کے چکر میں نہ دِہاڑی کما پا رہے، نہ ہی سلنڈر مل رہا ہے۔‘‘
’نیوز 18‘ کی ایک ویڈیو بھی کانگریس نے شیئر کی ہے، جس میں آٹو رکشہ والے لمبی قطار میں لگے دکھائی دے رہے ہیں۔ سبھی آٹو والے پریشان ہیں، کیونکہ گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد بھی انھیں گیس نہیں مل پا رہی۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کہہ رہے ہیں– ملک میں سب چنگا ہے، کچھ لوگ پینک کریئٹ کر رہے ہیں۔ گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘ اس کے آگے لکھا گیا ہے ’’نریندر مودی جی، اپنے شاہی محل سے نکلیے اور زمینی حالات دیکھیے۔ عوام رو رہی، تڑپ رہی ہے۔ یہ ویڈیو جئے پور کا ہے، جہاں آپ کی حکومت ہے۔ لوگ گھنٹوں تک گیس کی لائن میں کھڑے ہیں۔‘‘
کانگریس نے ’دی ریڈ مائک‘ کی بھی ایک ویڈیو فوٹیج شیئر کی ہے، جس میں لوگ ایک الگ ہی طرح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے موبائل پر سلنڈر ڈیلیور ہونے کا میسج آیا ہے، جبکہ انھیں سلنڈر ملا ہی نہیں ہے۔ ایک شخص کہتا ہے ’’ہم نے گیس سلنڈر نہیں لیا، لیکن ہمارے پاس میسج آیا کہ سلنڈر ڈیلیور ہو گیا۔ ایسے میسج کئی لوگوں کے پاس پہنچ رہے ہیں۔‘‘ اس شخص نے یہ بھی بتایا کہ سلنڈر ڈیلیور ہونے کی تاریخ 3 مارچ بتائی جا رہی ہے، اور اب گیس ایجنسی والوں کا کہنا ہے کہ سلنڈر 25 دنوں بعد، یعنی 28 مارچ کو ہی مل سکے گا۔ کانگریس نے اس معاملہ میں تلخ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’صاف طور پر یہ بدعنوانی ہے اور جم کر کالابازاری ہو رہی ہے۔ عوام بے حال ہے۔ لوگ لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے ہیں، لیک مودی حکومت چادر تان کر سو رہی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔