پیریڈ لیو کو موقع چھیننے کا نہیں، حق دینے کا بہانہ بنائیں... ناگیندر

ابھی چند سال پہلے جب اسمرتی ایرانی خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر تھیں، ان کا ایک بیان منظر عام پر آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہواری کے لیے چھٹی کی ضرورت نہیں ہے، یہ کوئی بیماری یا معذوری تو نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پیریڈ لیو</p></div>
i
user

ناگیندر

خواتین کے لیے ماہواری یا پیریڈس کے دوران 2 دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی کے معاملہ پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’خاتون ملازمین کے مفاد میں اٹھایا گیا ایسا کوئی قدم ان میں نفسیاتی سطح پر منفی اثر پیدا کر سکتا ہے، یعنی ان کے اندر ایسا احساس پیدا کر سکتا ہے کہ وہ مردوں سے کمتر ہیں۔ کیونکہ وہ ماہواری کے دوران کام نہیں کر سکتیں۔‘ اتفاق سے جس 3 رکنی بنچ نے یہ تبصرہ کیا اور اس معاملہ میں فیصلہ سنایا، اس میں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وپُل ایم پنچولی کے ساتھ خاتون جسٹس جوئے مالیہ باگچی بھی شامل تھیں۔ بنچ نے مشورہ دیا کہ ’براہ کرم ایسے قدم کے طویل مدتی اثر کو سمجھیں۔ خواتین کے مفاد میں مثبت اقدام کو آئینی منظوری حاصل ہے۔ انسانی وسائل (دوسرے الفاظ میں مزدور) جتنا کم پُرکشش ہوگا، ملازمت کے بازار میں اس کی طلب اتنی ہی کم ہوگی۔‘

سب کچھ سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے… ہے نا…! خواتین کی، ان کے مستقبل کی کتنی فکر کی جا رہی ہے! یہ بھی لگتا ہے کہ معزز حضرات خواتین کے اختیارات کے بارے میں اتنے فکرمند ہیں کہ کہیں ’پیریڈ لیو‘ دے دینے سے ان کا کیریئر خراب نہ ہو جائے… وغیرہ… وغیرہ۔ لیکن یہاں ایک سوال بھی ہے کہ ’اگر مرد اسی طرح کی کسی جسمانی ساخت سے پیدا ہونے والی مشکل کا شکار ہوتا تو کیا معزز حضرات یا حکومتیں یا کمپنیاں اسی طرح سوچتیں؟ ویسے خواتین کے مسائل پر خاص نظر رکھنے والے سینئر صحافی ناصرالدین کی بات یہاں بہت موزوں لگتی ہے کہ ’’تب ان حالات میں ان دنوں کے لیے مرد بہت پہلے ہی اپنے طریقے سے ’حل‘ تلاش کر لیتا۔ ان کی چھٹیوں میں ایک خاص چھٹی اس کے لیے بھی نکل آتی۔ تب شاید اس کے لیے دلائل بھی تلاش کر لیے جاتے اور اس کی ضرورت بھی پیدا کر دی جاتی۔‘‘


خواتین کو ماہواری کے دوران تنخواہ کے ساتھ چھٹی دینے کی بحث کوئی نئی نہیں ہے۔ زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو ابھی چند سال پہلے جب اسمرتی ایرانی خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر تھیں، ان کا ایک بیان منظر عام پر آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہواری کے لیے چھٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی بیماری یا معذوری تو نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’حکومت کا ماہواری کی چھٹی دینے سے متعلق کوئی تجویز نہیں ہے۔‘ درحقیقت اسمرتی ایرانی کا بیان بھی غلط نہیں تھا اور عدالتی بنچ کا تبصرہ بھی غلط نہیں ہے۔ لیکن سوال اس سے آگے کا ہے۔

ہم نے ایک کثیر القومی کمپنی کی بنگلورو میں کام کرنے والی نیشنل ایچ آر ہیڈ سے اس بارے میں ان کی رائے جاننی چاہی (یہاں اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ان کی کمپنی کی پالیسی کیا ہے)۔ پیشہ ورانہ مجبوری کے باعث وہ اپنا نام نہیں دینا چاہتیں تو کچھ دیر کے لیے ان کا نام دیپتی مان لیتے ہیں۔ دیپتی کا کہنا ہے کہ ’’لازمی 2 روزہ تنخواہ کے ساتھ ماہواری/پیریڈ چھٹی کی بات کرنا خواتین کو ’اضافی‘ چھٹی دینے کے بارے میں نہیں ہے؛ دراصل یہ برابری کے بارے میں ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے جو کسی کمپنی یا دفتر میں کام کرنے والے لوگوں کے ایک اہم حصے کی پیداواری صلاحیت اور صحت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ سہولت فراہم کر کے کمپنیاں ایک مساوی موقع فراہم کریں گی یا کرتی ہیں، جہاں خواتین کو ان جسمانی تکالیف کے باوجود کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا جن کا سامنا ان کے مرد ساتھیوں کو نہیں کرنا پڑتا۔‘‘


دیپتی اسے ’ضرورت پر مبنی‘ نفاذ مانتی ہیں۔ یعنی یہ خدشہ کہ کمپنیاں خواتین کو ملازمت دینا بند کر دیں گی، حقیقت سے بہت دور ایک مبالغہ آمیز بیان ہے۔ اگر اسے بیماری کی چھٹی کی طرح ضرورت کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے تو دراصل خلل بہت کم ہوتا ہے (جیسا کہ جرمنی میں نظام ہے)۔ اور اگر ایسا کوئی خوف (ملازمت جانے کا) ہے بھی تو وہ اس کے لیے ملک گیر سطح پر قابل قبول قانون بنانے کے حق میں ہیں۔

دیپتی عدالت سے لے کر اسمرتی ایرانی کے تبصرے اور وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے نقطۂ نظر سے فکر مند ہیں اور اس بیان کو ’منتخب استعمال‘ مانتی ہیں، جب کہا جاتا ہے کہ ہر خاتون میں ہر مہینے [اتنی زیادہ‘ پریشان کرنے والی علامات نہیں ہوتیں۔ یہاں آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والی انوجنیا کا سوال جائز لگتا ہے کہ ’یہ اتنا زیادہ یا کتنا زیادہ کون طے کرے گا؟‘


دیپتی سمجھاتی ہیں کہ پیشہ ورانہ دیانت یہی کہتی ہے کہ موجودہ طبی چھٹیوں کی طرح ان کا استعمال بھی صرف ضرورت پڑنے پر ہی کیا جائے گا۔ لیکن ہر بات کو سادہ بنا دینے میں ماہر لوگ اس کی بھی اپنے طریقے سے ’تشریح‘ کر کے غلط پیغام دینے سے باز نہیں آتے۔ لیکن کیا محض انہی وجوہ سے اسے چھوڑ دیں گے۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ ’’کیا دیگر بہت سے قوانین کا غلط استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن ایسا کہہ کر آپ چیزوں کو معمول نہیں بنا سکتے۔ یہ معمول بنانا اپنے کام کرنے والے افراد کی نیت پر اجتماعی شک کرنے جیسا ہے۔‘‘

دیپتی اس سہولت کے طویل مدتی فائدے (کارپوریٹ کے معاملے میں) کا ذکر کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ دلیل کہ یہ پالیسی بھرتی کی حوصلہ شکنی کرے گی، ’پریزینٹزم‘ کی لاگت کو نظر انداز کرتی ہے، جہاں ملازم جسمانی طور پر تو موجود ہوتے ہیں، لیکن تکلیف کی وجہ سے ذہنی اور پیداواری دونوں لحاظ سے کام میں ان کی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسے میں ’ریٹینشن‘ ایک بڑا عامل بن جاتا ہے، یعنی پیریڈ کے دوران چھٹی دینے سے نہ صرف کمپنی کے تئیں وفاداری بڑھتی ہے بلکہ طویل مدتی دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔‘‘ دیپتی کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں اگر کثیر القومی کمپنیوں کی ہی بات کریں تو جامع سوچ کے ساتھ ملازم کی صحت کو ترجیح دینے والی کمپنی یقینی طور پر بازار کے ’بہترین ٹیلنٹ‘ کو اپنی طرف کھینچے گی جو پورے سال میں اس 24 روزہ چھٹی کی معمولی لاگت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوگا۔


پیریڈ لیو یا ماہواری کی چھٹی کی بات چلی تو مجھے تقریباً 20 سال پہلے اپنی اس وقت کی کمپنی کے ایک نہایت سینئر افسر کی بات یاد آئی، جن کا ماننا تھا کہ خواتین کی بھرتی کی اس لیے حوصلہ شکنی ہونی چاہیے کہ ’ان کے مسائل مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں اور کام کے دوران ان کا رویہ اور نتیجہ کئی بار اسی بہانے سے منفی‘ رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اس سینئر افسر ساتھی نے اس وقت تک کبھی ایسی کسی ٹیم کے ساتھ کام ہی نہیں کیا تھا جس میں ایک بھی خاتون شامل رہی ہو۔ وہی افسر بعد میں اس دور دراز نیم شہری علاقے میں بھی نئی تقرری پانے والی 2 خاتون ملازمین کی صلاحیت اور کارکردگی کے قائل ہو گئے تھے۔ کہنا نہ ہوگا کہ یہ پیریڈ لیو کا معاملہ کبھی کام میں رکاوٹ نہیں بنا تھا (پیریڈ کے دوران چھٹی تو انہوں نے بھی لی تھی)، اس حقیقت کے باوجود کہ تب بھی اور اب بھی اس کمپنی میں اس کا کوئی انتظام نہ تھا اور نہ ہے۔

ایسے میں لکھنؤ کی ایک پرائیویٹ بینک کی خاتون مینیجر رجنی کا یہ تبصرہ عملی معلوم ہوتا ہے کہ ’’بھرتی کے معاملے میں خواتین کے بارے میں منفی سوچ کوئی نئی بات تو نہیں۔ دہائیوں سے زچگی کی چھٹی کو لے کر بھی اسی طرح کے دلائل دیے جاتے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر ہم خود کو ترقی پسند معاشرہ مانتے ہیں تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ بغیر کسی بے بنیاد دلیل کے وقت کی اس حقیقت کو قبول کریں کہ برابری کی بات کیے بغیر ہم اپنی معیشت کو بھی نہیں سنبھال پائیں گے۔ آج بھی اگر ہم ایسے تعصب آمیز اگر مگر کے ساتھ خواتین کے ساتھ امتیاز کرتے رہے تو بہت پیچھے رہ جائیں گے۔‘‘


ایسا بھی نہیں ہے کہ خواتین کی ایسی مشکلات پہلے کبھی سنی نہیں گئیں یا ان پر کبھی غور نہیں ہوا۔ پیریڈ لیو دینے کے معاملے میں اسپین، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، زامبیا جیسے ممالک اور کچھ حد تک جرمنی کو چھوڑ بھی دیں تو ہندوستان میں بھی اس پر کافی بحث ہوئی، اور ایسا نہیں کہ کسی نے اس پر مثبت رویہ اختیار نہیں کیا۔ سابق سوویت یونین نے تو 100 سال پہلے ہی اپنے یہاں یہ نظام نافذ کر دیا تھا اور تب وہاں انہیں 2 سے 3 دن کی پیریڈ لیو ملا کرتی تھی۔

بہار جیسے پسماندہ کہے جانے والے صوبے میں اس معاملہ کو لے کر ملازم تنظیموں نے طویل تحریک چلائی اور 1990 میں تو اس کے لیے لمبی ہڑتال بھی ہوئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2 جنوری 1992 سے بہار میں خواتین کے لیے پیریڈ لیو نافذ کرنے کا وہ فیصلہ لیا گیا جس میں اس وقت کی لالو پرساد یادو حکومت نے خواتین ملازمین کو ہر ماہ 2 دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی دینے کا تاریخی فیصلہ کیا اور ایسا کرنے والا بہار ہندوستان کا پہلا صوبہ بنا۔ بہت بعد میں کیرالہ (2023)، اڈیشہ (اگست 2024)، کرناٹک (2025)، سکم اور کرناٹک (2025) میں یہ نظام نافذ ہوا۔ اڈیشہ میں سرکاری اور پرائیویٹ دونوں شعبوں میں ایک دن کی چھٹی کا انتظام ہے جبکہ کیرالہ نے اپنے یہاں تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں طالبات کو ماہواری کے دوران چھٹی اور حاضری میں رعایت دی ہے۔ سکم میں سرکاری دفاتر کے ساتھ یونیورسٹی کی طالبات کے لیے پیریڈ لیو کا انتظام ہے، تو کرناٹک میں تنخواہ کے ساتھ چھٹی کا نظام نافذ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں قومی سطح پر ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو سرکاری کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ شعبے میں بھی ایسی سہولت نافذ کرتا ہو۔ تاہم کئی پرائیویٹ اسٹارٹ اپ اور کمپنیاں رضاکارانہ طور پر یہ سہولت نافذ بھی کر رہی ہیں۔


22 دسمبر 2022 کی ’انڈیا ٹوڈے‘ کی خبر کے مطابق زومیٹو، سویگی، اورینٹ الیکٹرک جیسی کئی کمپنیاں اپنے یہاں تنخواہ کے ساتھ پیریڈ لیو دے رہی ہیں۔ پھر ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ جس ہندوستان کے سب سے پسماندہ مانے جانے والے صوبہ بہار نے اس معاملے میں تقریباً ساڑھے تین دہائی پہلے قیادت کی اور یہ نظام نافذ کیا، اسی ملک میں ہم آج بھی اس مسئلے پر بحث سے آگے کیوں نہیں بڑھ پائے ہیں۔

ایسا کیوں ہوا کہ جس سپریم کورٹ نے 3 سال پہلے اسی شخص کی عرضی پر مرکزی حکومت سے امکانات تلاش کر کے پالیسی تیار کرنے کو کہا تھا، اسی سپریم کورٹ نے اسی شخص کی عرضی کو اس بار نہ صرف خارج کر دیا بلکہ اگلی بار یعنی تیسری بار اس مسئلے پر عدالت نہ آنے کی تنبیہ بھی دے ڈالی، اس سختی کے ساتھ کہ ایسا نہ ہونے کے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔


یوپی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مدھو گرگ ان لوگوں پر طنز کرتی ہیں جنہیں فیصلے سے الگ عدالت کے تبصرے زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔ مدھو گرگ کہتی ہیں کہ ’’عدالت نے تو یہ کہہ کر کہ جو رضاکارانہ طور پر اسے نافذ کر رہے ہیں وہ قابل استقبال ہے، لیکن اگر اسے لازمی کر دیا گیا تو آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کے کیریئر کو کتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے، ایک راستہ بند کر دیا۔‘‘ مدھو گرگ کا ماننا ہے کہ اعلیٰ عدالت نے یہ کہہ کر ایک راستہ تو بند کیا ہی، ایک نیا راستہ بھی دکھا دیا کہ جو یہ سہولت دے رہے ہیں وہ بھی اسے جاری رکھنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آخر بازاریت کے دور میں کون سال میں 24 دن کا اپنا ’نقصان‘ جاری رکھنا چاہے گا۔ ایسے میں امید بس ایک ہی ہے کہ 90 والی بہار جیسی کوئی بڑی تحریک ہو جو حکومت کو ملک گیر سطح پر کوئی پالیسی بنانے پر مجبور کر دے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟ یہ بڑا سوال ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔