دیگر ممالک

بنگلہ دیش انتخاب: کون ہیں طارق رحمٰن جو بن سکتے ہیں بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم؟

طارق رحمٰن بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ 1990 کی دہائی میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور 2001 سے 2007 کے درمیان وہ پارٹی کے اندر بہت زیادہ باثر بن گئے۔

<div class="paragraphs"><p>طارق رحمن، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/bdbnp78">@bdbnp78</a></p></div>

طارق رحمن، تصویر ’ایکس‘ @bdbnp78

 

بنگلہ دیش کی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔ اقتدار کے گلیاروں میں ایک ایسا نام تیزی سے ابھر رہا ہے جو کبھی جلاوطن تھا، کبھی عدالتوں میں گھرا رہا اور اب وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے بڑا دعویدار مانا جا رہا ہے۔ 17 سال بعد لندن سے واپس آنے والے طارق رحمٰن اس انتخاب کے مرکز میں ہیں۔ اس دوران سوال صرف یہ نہیں کہ وہ جیتیں گے یا نہیں، بلکہ یہ بھی کہ کیا ان کی واپسی بنگلہ دیش کی سیاست کا نیا باب لکھے گی؟

Published: undefined

جمعرات (12 فروری) کو بنگلہ دیش میں عام انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ یہ انتخاب کئی لحاظ سے خاص مانا جا رہا ہے۔ عوامی لیگ کی غیر موجودگی نے مقابلے کو ایک الگ ہی سمت دے دی ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے بڑی اور اہم پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ بی این پی ملک کی پرانی اور مستحکم سیاسی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس بار کے انتخاب میں پارٹی کا چہرہ ہیں طارق رحمٰن، جنہیں وزیر اعظم کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔

Published: undefined

طارق رحمٰن بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ سیاست ان کے لیے نئی نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 2001 سے 2007 کے درمیان وہ پارٹی کے اندر بہت زیادہ باثر بن گئے۔ اس دور میں انہیں ’ڈارک پرنس‘ کے نام سے بھی جانا گیا، کیونکہ وہ اقتدار کے پیچھے رہ کر حکمت عملی بنانے والے لیڈر مانے جاتے تھے۔

Published: undefined

2007 میں فوج کی حمایت یافت حکومت کے دوران طارق رحمٰن کے خلاف بدعنوانی کے کئی الزام عائد ہوئے اور انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ بعد میں وہ علاج کے لیے لندن چلے گئے اور وہیں سے پارٹی چلاتے رہے۔ 2018 اور 2021 میں انہیں بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور 2004 کے گرینیڈ حملے سے متعلق معاملوں میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ حالانکہ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد عدالتوں نے ان کے خلاف کئی فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس سے ان کی وطن واپسی اور انتخاب میں فعال کردار ادا کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔ تقریباً 17 سال بعد ان کی واپسی کو بنگلہ دیش کی سیاست کے بڑے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اگر طارق رحمٰن کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمٰن کی بات کی جائے تو ان کی پیدائش 18 مئی 1972 کو سلہٹ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ڈھاکہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور 1995 میں بی سی ایس امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمت اختیار کی۔ بی سی ایس ہیلتھ کیڈر میں انہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ 2008 میں تعلیمی چھٹی پر لندن جانے کے بعد انہیں سرکاری عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے امپیریل کالج سے طب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

Published: undefined

ڈاکٹر زبیدہ رحمٰن کے والد ریئر ایڈمیرل محبوب علی خان 1978 سے 1984 تک بنگلہ دیشی بحریہ کے سربراہ رہے۔ بعد میں وہ مواصلات اور زراعت کے بھی وزیر رہے۔ زبیدہ کے چچا جنرل ایم اے جی عثمانی ’جنگ آزادی‘ کے دوران کمانڈر اِن چیف رہے تھے۔ زبیدہ کو بھی قانونی معاملات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2008 میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے ان کے، طارق اور ان کی ماں کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ڈھاکہ کی عدالت نے انہیں 3 سال کی جیل اور 35 لاکھ ٹکا جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ گزشتہ سال اگست میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس سزا پر روک لگا دی گئی۔

Published: undefined

طارق رحمٰن کی بیٹی زائمہ رحمٰن کی عمر تقریباً 30 سال ہے۔ انہوں نے لندن کی کوئین میری یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر لنکن یونیورسٹی سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ لندن میں پریکٹسنگ بیرسٹر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کے بعد وہ بی این پی کی کچھ ورچوئل میٹنگ میں بھی دیکھی گئی ہیں۔ وہ ضیاء الرحمٰن اور خالدہ ضیاء کی اکلوتی پوتی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined