’کسی بھی طبقے کی توہین کرناغلط ‘، فلم ’گھوس خور پنڈت‘ بنانے والوں کو سپریم کورٹ کی لتاڑ
پلیٹ فارم نے بنچ کو یقین دلایا کہ ٹائٹل تبدیل کیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ فلم سے متعلق تمام تشہیری مواد پہلے ہی سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے جس کے بعد عدالت نے معاملہ حل ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ایک ہندی فلم کے نام پرسخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو نیٹ فلکس اور فلم سازنیرج پانڈے سے ’گھوس خورپنڈت‘ ٹائٹل پر وضاحت طلب کی اوران سے کہا کہ وہ عدالت کوبتائیں کہ متنازع فلم کونیا نام دینے کی تجویز کر رہے ہیں۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے ناموں کا انتخاب اکثرتشہیراورتنازعہ کو ہوا دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس سماعت کے دوران دیئے جب بنچ نے کچھ ہی گھنٹوں میں واضح جواب دینے پرزور دیا۔۔
جسٹس بی وی ناگرتنا کی بنچ نے ’گھوس خور پنڈت‘ کے پروڈیوسر کو کڑی پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طبقے کی توہین کرنا غلط ہے، سماج میں پہلے ہی بہت دراڑ ہے، آپ اسے بڑھاوا مت دیجئے۔ اس سلسلے میں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نام بدلنے کی بات کہی ہے، ہمیں بتائیں کیا نام رکھنے جا رہے ہیں؟، یہ بھی بتائیں کہ کیا آپ کی فلم میں کسی کمیونٹی کے بارے میں کوئی قابل اعتراض بات ہے یا نہیں؟
اس سے پہلے منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے نیٹ فلکس کی فلم ’گھوس خورپنڈت‘ کی ریلیز اوراسٹریمنگ پر روک لگانے کی درخواست کی سماعت کی تھی۔ درخواست میں دلیل دی گئی کہ فلم کا ٹائٹل اوراس کا مجوزہ مواد ہتک آمیزاور فرقہ وارانہ طور پر جارحانہ ہے۔ سماعت کے دوران نیٹ فلکس نے عدالت کو بتایا کہ میکرس فلم کا نام تبدیل کرنے کے لیے تیارہیں۔ پلیٹ فارم نے بنچ کو یقین دلایا کہ ٹائٹل تبدیل کیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ فلم سے متعلق تمام تشہیری مواد پہلے ہی سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے معاملہ حل ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا تھا کہ درخواست پرمزید احکامات جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ نیٹ فلکس اور میکرس فلم کا نام تبدیل کرنے پرمتفق ہوگئے ہیں۔ اس بنیاد پرعدالت نے معاملے کو حل ہوا مانا اور’گھوس خور پنڈت‘ کی ریلیز روکنے کی درخواست خارج کردی۔ بتادیں کہ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’گھوس خور پنڈت‘ ٹائٹل ہندو پجاریوں اورایک مخصوص برادری کی شبیہ کو نقصان پہنچاتا ہے اور یہ سماجی اور فرقہ وارانہ طور سے اشتعال انگیز ہو سکتا ہے۔ درخواست میں فلم کی ریلیز اور آن لائن اسٹریمنگ پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔