منوج باجپائی کی’ گھوس خور پنڈت‘ پر وبال، ایف ڈبلیوآئی سی ای نے دے دی بائیکاٹ کی دھمکی

 نیٹ فلکس کی آنے والی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ ریلیز سے پہلے ہی تنازع کی شکار ہوگئی ہے۔ اس دوران ایف ڈبلیو آئی سی ای نے فلم کے ٹائٹل کو توہین آمیز قرار دے کرفوری طور پر اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>منوج باجپائی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

فلم اور ویب مواد کے ٹائٹل کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کی کڑی میں اب نیٹ فلکس کی آنے والی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ بھی شامل ہوگئی ہے۔ نیرج پانڈے کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا۔ منوج باجپائی کے مرکزی کردار والی فلم کا پرومو نیٹ فلکس کے 2026 کے سلیٹ کے اعلان کے دوران جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد فلم کے ٹائٹل سے متعلق تنازعہ اس حد تک بڑھ گیا کہ میکرز کو اوٹی ٹی پلیٹ فارمز سے پروموشنل مواد کو ہٹانا پڑا۔ دریں اثنا اب فلم کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہیں.

فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیوآئی سی ای) نے فلم کے ٹائٹل پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ’تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نام سے نہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔


ایف ڈبلیوآئی سی ای نے اس معاملے سے متعلق ایک سرکاری خط جاری کرکے انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے)، پروڈیوسرس گلڈ آف انڈیا، آئی ایف ٹی پی سی اور ڈبلیو آئی ایف پی اے جیسی بڑی پروڈیوسر تنظیموں کے ساتھ ساتھ نیٹ فلکس،امیزن پرائم ویڈیو، جی5 اور سونی لائیو جیسے اوٹی ٹی پلیٹ فارمز کو بھی آگاہ کیا ہے۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی کمیونٹی کو منفی طورسے پیش کرنے والے ٹائٹل کے رجسٹریشن اور استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کا استدلال ہے کہ ’گھوس خور‘ جیسے لفظ کو ’پنڈت‘ جیسے روایتی کنیت کے ساتھ جوڑنے سے ایک خاص کمیونٹی کی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تنظیم نے فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ٹائٹل واپس لیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتباہ بھی دیا کہ اگر کوئی اصلاحی اقدام نہیں کیا گیا تو ایف ڈبلیو آئی سی ای اپنے ممبروں کو فلمساز کے آنے والے پروجیکٹس کا بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دے سکتی ہے۔


اس تنازع کے درمیان فلم کے مرکزی اداکار منوج باجپائی نے بھی ردعمل کا اظہارکیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اگر کوئی کام لوگوں کو تکلیف دے رہا ہے تو اسے سنجیدگی سے سننا اور سمجھنا ضروری ہے۔ منوج نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا کردار ایک افسانوی کردار کا ہے جو اپنی خامیوں کا سامنا کرتا ہے اور خود شناسی کے سفر سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک کردار پر مبنی پولیس ڈرامہ ہے ، کہ کسی کمیونٹی پر تبصرہ بلکل نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔