بنگلہ دیش انتخابات میں پولنگ کے دوران تشدد، بی این پی رہنما ہلاک، بم حملے میں تین افراد زخمی

بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات کے دوران مختلف مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ کھُلنا میں بی این پی کے ایک رہنما کی ہلاکت ہوئی جبکہ گوپال گنج میں بم حملے سے تین افراد زخمی ہو گئے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں جمعرات کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں ایک سیاسی رہنما ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولنگ شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

کھُلنا ضلع کے عالیہ مدرسہ پولنگ اسٹیشن پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما محب الزمان کوچی ہنگامہ آرائی کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ عینی شاہدین اور پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ جمعرات کی صبح بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔

بتایا گیا ہے کہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب عالیہ مدرسہ کے پرنسپل پر جماعتِ اسلامی کے حق میں مہم چلانے کا الزام لگایا گیا۔ کھلنا صدر تھانہ کے سابق بی این پی تنظیمی سکریٹری یوسف ہارون مجنو کے مطابق صبح سے ہی مرکز پر تناؤ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تلخ کلامی کے دوران دھکم پیل ہوئی، جس کے باعث محب الزمان کوچی درخت سے ٹکرا کر سر پر چوٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔

کھلنا سٹی میڈیکل کالج اسپتال کے ایمرجنسی میڈیکل آفیسر پارتھا رائے نے تصدیق کی کہ کوچی کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا۔ پولیس سب انسپکٹر خان فیصل رفیع، جو اس مرکز کے انچارج تھے، نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی فورس موقع پر پہنچی اور دونوں گروپوں کو الگ کر دیا گیا۔


دوسری جانب گوپال گنج صدر سب ڈویزن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر کاک ٹیل بم حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ ریشما انٹرنیشنل اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر نامعلوم افراد نے نہر کے پار سے بم پھینکے، جس سے ڈیوٹی پر موجود دو اہلکار اور ایک بچہ زخمی ہوا۔ دھماکے کے بعد ووٹروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر جماعتِ اسلامی نے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو ووٹنگ سے روکنے اور حملوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ جماعت کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان المحبوب زبیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ باریسال، بھولا-۲، کومیلا-۸ اور ہاتیا سمیت کئی حلقوں میں ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن جانے سے روکا گیا۔