’جولائی چارٹر‘ کیا ہے؟ جس کے لیے بنگلہ دیش میں عام انتخاب کے ساتھ ڈالے جا رہے ہیں ووٹ
ووٹنگ کے دوران بنگلہ دیش کے ووٹرس کو 2 بیلٹ پیپر مل رہے ہیں، ایک اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے اور دوسرا ’جولائی چارٹر‘ پر ریفنڈم کے لیے۔

بنگلہ دیش میں 1971 کی آزادی کے بعد سب سے اہم انتخابات میں سے ایک جمعرات (12 فروری) کو ہو رہا ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں پہلا عام انتخاب ہو رہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں بنگلہ دیش پر مرکوز ہیں۔ یہ انتخاب نہ صرف بنگلہ دیش کے عوام کو اگلی حکومت اور نیا وزیر اعظم دے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کس راستے پر چلے گی۔ دراصل آج بنگلہ دیش کے ووٹرس کو 2 بیلٹ پیپر مل رہے ہیں، ایک اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے اور دوسرا ’جولائی چارٹر‘ پر ریفنڈم کے لیے۔ شہری دوسرے بیلٹ پیپر میں ہاں یا نا میں ووٹ کر کے یہ بتائیں گے کہ وہ ’جولائی نیشنل چارٹر 2025‘ کو نافذ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ عام انتخاب کے لیے سفید بیلٹ پیپر کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ ریفرنڈرم کے لیے گلابی بیلٹ پیپر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ’جولائی چارٹر‘ کیا ہے۔ اگر ریفرنڈم کا فیصلہ ’جولائی چارٹر‘ کے حق میں آتا ہے تو بنگلہ دیش میں کیا بدلے گا؟ ’جولائی چارٹر‘ بنگلہ دیش میں سیاسی اور آئینی اصلاحات کا ایک خاکہ ہے، جسے 2024 کی تحریک کے بعد جمہوری نظام کو مستحکم کرنے اور آمرانہ قوتوں کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ جولائی چارٹر کا مقصد جمہوری اصلاحات کو مستقل بنانا اور انتظامیہ (حکومت) میں طاقت کی ضرورت سے زیادہ مرکزیت کو روکنا ہے۔ اس میں تحریک میں شامل لوگ جنہیں ’جولائی فائٹرس‘ کہا گیا ہے، ان کو تحفظ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ ساتھ ہی نظام حکومت، عدلیہ اور انتخابی نظام میں اصلاحات، انتخاب کے لیے غیر جانبدار کیئر ٹیکر حکومت (نگراں حکومت) کی واپسی، بنیادی حقوق کی مضبوطی اور قومی نظم و نسق میں سب کی شمولیت کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں وزیر اعظم کے لیے زیادہ سے زیادہ 2 مدتوں کی حد مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق 84 تجاویز میں سے 47 کو نافذ کرنے کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہوگی، جبکہ بقیہ 37 کو قوانین یا سرکاری احکامات کے ذریعہ نافذ کیا جائے گا۔
اگر ریفرنڈم کا فیصلہ ’جولائی چارٹر‘ کے حق میں آتا ہے تو آئندہ پارلیمنٹ کی آئینی اصلاحاتی کونسل کو 270 دنوں یا 9 ماہ کے اندر ضروری آئینی ترامیم مکمل کرنی ہوگی۔ اگر آئینی اصلاحاتی کونسل اس مدت میں ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عبوری حکومت آئینی ترمیمی بل خود بخود منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔ روزنامہ ’پروتھوم ایلو‘ کی رپورٹ کے مطابق اگر منظوری مل جاتی ہے تو اگلی پارلیمنٹ ایک آئینی اصلاحاتی کونسل کے طور پر بھی کام کرے گی، جسے 270 دنوں کے اندر منظور شدہ آئینی ترامیم کو نافذ کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ووٹرس کو ایک ایک اصلاح پر الگ الگ فیصلہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا ہے، بلکہ 84 تجاویز پر ایک ساتھ ہاں یا نا میں جواب دینا ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ ’جولائی چارٹر‘ کی کئی تجاویز پر متفق اور کئی پر غیر متفق ہو سکتے ہیں، لیکن ان سب کے لیے ان کا جواب ایک کیسے ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ بنیاد پیش کر کے ووٹرس کو الجھاتا ہے اور اصلاحات کو ٹھیک سے سمجھنے اور ان پر بحث کرنے کی عوامی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں یہ چوتھی بار ہو گا کہ اصلاحات کا چارٹر متعارف کرایا گیا ہے اور ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پہلا ریفرنڈم 30 مئی 1977، دوسرا ریفرنڈم 21 مارچ 1985 اور تیسرا ریفرنڈم 15 ستمبر 1991 میں کرایا گیا تھا۔