خبریں

اٹاری بارڈر بند ہونے سے ہندوستان میں پھنس گئیں کئی مسلم خواتین، سرحد پار بچے ماں کا کر رہے انتظار!

اٹاری بارڈر پر اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب پاکستان میں شادی شدہ ہندوستانی خواتین کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ افسران کے رویہ سے ناراض خواتین نے ہنگامہ کیا اور بارڈر پر دھرنا شروع کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>اٹاری بارڈر</p></div>

اٹاری بارڈر

 

پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے رشتے تلخ ہو گئے ہیں۔ دونوں ہی ممالک نے اپنے یہاں موجود پڑوسی ملک کے باشندوں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک قلیل مدت طے کر دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ افرا تفری والے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور عوام پریشان ہے۔ اٹاری بارڈر پر کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور سرحد بند ہونے کی وجہ سے اپنے ملک نہیں جا پا رہے ہیں۔

Published: undefined

ہندوستان میں ایسی کئی خواتین کے پھنسے ہونے کی خبر سامنے آ رہی ہے، جن کی شادیاں پاکستان میں ہوئی ہیں۔ یہ خواتین اٹاری بارڈر پر افسران کے رویہ سے ناراض ہیں اور ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔ کچھ خواتین نے اٹاری بارڈر کے قریب ہی بیٹھ کر دھرنا شروع کر دیا ہے اور وہ پاکستان جانے کے لیے بے تاب دکھائی دے رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ خواتین ایسی ہیں جو ہندوستانی شہری ہیں اور ان کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہے، جبکہ ان کے بچوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے۔ سرحد پر افسران نے بچوں کو تو پاکستان جانے کی اجازت دے دی، لیکن ان خواتین کو جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس وجہ سے پاکستان میں بچے اپنی ماؤں کا انتظار کر رہے ہیں۔

Published: undefined

بچوں کے پاکستان چلے جانے کے بعد ان کی ماؤں کو جب وہاں جانے سے روکا گیا تو اس سے ناراض خواتین نے اٹاری بارڈر پر امیگریشن چیک پوسٹ (آئی سی پی) کے باہر نعرہ بازی شروع کر دی اور انتظامیہ کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ افسران کا رویہ ناانصافی پر مبنی اور غیر حساس ہے، جو ماں اور بچوں کو الگ کرنے جیسا غیر اخلاقی قدم اٹھا رہے ہیں۔ خواتین کے احتجاجی مظاہرہ کی وجہ سے بارڈر پر کچھ دیر کے لیے ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ افسران نے حالات کو کو سنبھالنے اور خواتین کو منانے کی کوشش کی، لیکن خواتین اپنے مطالبات پر بضد دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ سرحد پار کرنے کی اجازت چاہتی ہیں۔ ان حالات نے ایک بار پھر بارڈر پار ازدواجی رشتوں اور ان سے جڑی قانونی پیچیدگیوں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined