پاکستان کی امیدوں پر ترکیے نے پھیرا پانی، شہباز حکومت کو دیا جھٹکا
ترکیے کے وزیر خارجہ فدان نے اجتماعی ذمہ داری پر مبنی بھروسہ مند علاقائی یکجہتی پلیٹ فارم بنانے کی پیش قدمی کی ہے۔ پہلے ایسی امیدیں تھیں کہ پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدہ میں ترکیے شامل ہوگا۔

’اسلامک ناٹو‘ بنانے کی کوشش کر رہے پاکستان کو ترکیے نے شدید جھٹکا دیا ہے۔ ترکیے کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے واضح کر دیا ہے کہ ترکیے کسی بھی نئے جغرافیائی-سیاسی گروپ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ہم کسی نئے جغرافیائی-سیاسی گروپ کو بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
ہاکان فدان نے اجتماعی ذمہ داری پر مبنی بھروسہ مند علاقائی یکجہتی پلیٹ فارم بنانے کی پیش قدمی کی ہے۔ پہلے ایسی امیدیں تھیں کہ پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدہ میں ترکیے شامل ہوگا، لیکن ترکیے کی تازہ پیش رفت نے صرف پاکستان کو ہی نہیں، بلکہ سعودی عرب کو بھی جھٹکا دے دیا ہے۔ ہاکان فدان کا کہنا ہے کہ اپنی سیکورٹی آؤٹ سورس نہ کریں، یہ مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ خطہ کا اہم مسئلہ صرف باہری مداخلت نہیں بلکہ ممالک کے درمیان بھروسہ کا فقدان ہے۔ جب تک علاقائی ممالک اپنے مسائل کی ذمہ داری نہیں لیں گے، تب تک استحکام نہیں آ سکے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ علاقائی سیکورٹی کے لیے یکجہتی اور آخرکار ایسے سمجھوتے اور پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے جو باہری طاقتوں پر انحصار کی جگہ مشترکہ مفادات کو ظاہر کرتے ہوں۔
ترکیے کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا کوئی نظام مشترک ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ایسا ہونا چاہیے جس میں ترکیے کی بالادستی نہ ہو، عرب کی بالادستی نہ ہو اور نہ ہی کوئی فارسی بالادستی دیکھنے کو ملے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ترکیے کا ہدف ذمہ دار علاقائی کارروائی ہے۔ انھوں نے بار بار اصولوں پر مبنی تعاون اور علاقائی ذمہ داری بڑھانے پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ ترکیے ان دنوں مشرق وسطیٰ میں اپنے اثرات کو بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ترکیے کے رشتے مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کی دوریاں بڑھتی ہوئی دیکھی جا رہی ہیں۔ فلسطین کے معاملہ پر ترکیے، سعودی عرب اور پاکستان یکساں سوچ رکھتے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے ابراہم معاہدہ میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ رشتوں کو معمول پر لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔