سنیترا پوار نے ’اجیت پوار امر رہے‘ نعروں کے درمیان مہاراشٹر کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ کا لیا حلف

سنیتا پوار نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے سے قبل آج ہی راجیہ سبھا رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن کو سونپا۔

<div class="paragraphs"><p>سنیترا پوار نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیتی ہوئیں، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اجیت پوار کے انتقال کے بعد غمگین ماحول میں ان کی بیوی سنیترا پوار نے مہاراشٹر حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا۔ اس نئی ذمہ داری کو سنبھالنے کے ساتھ ہی ان کے نام ایک نیا ریکارڈ بھی درج ہو گیا۔ وہ ریاست کی پہلی خاتون نائبو زیر اعلیٰ بن گئی ہیں۔ گورنر آچاریہ دیوبرت نے انھیں عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے بھی موجود تھے۔ جب سنیترا پوار حلف برداری کے لیے مائک کے پاس پہنچی تو ہال میں ’اجیت پوار امر رہے‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ یہ نعرہ حلف برداری مکمل کرنے کے بعد بھی سنائی دیے۔

قابل ذکر ہے کہ حلف برداری سے قبل این سی پی لیڈران نے سنیترا پوار کو اپنا لیڈر منتخب کیا تھا۔ اس کے بعد سنیترا نے راجیہ سبھا رکنیت سے استعفیٰ دے دیا، تاکہ نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کی حلف برداری کا راستہ ہموار ہو۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو سونپا۔ سنیترا کو 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انھیں راجیہ سبھا کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔


واضح رہے کہ آج دوپہر این سی پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں ریاستی صدر سنیل تٹکرے نے تعزیت کی تجویز پیش کی اور اجیت پوار کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس کے بعد دلیپ ولسے پاٹل نے سنیترا پوار کے نام کی تجویز پیش کی۔ چھگن بھجبل نے اس تجویز کی حمایت کی۔ بعد ازاں دیگر اراکین اسمبلی نے سنیترا پوار کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کی حمایت کی۔ اس کے ساتھ ہی سنیترا پوار این سی پی قانون ساز پارٹی کی لیڈر منتخب کر لی گئیں۔

اس میٹنگ میں 2 تجاویز خاص طور سے رکھی گئیں۔ پہلی تجویز سنیترا پوار کو پارٹی لیڈر منتخب کیے جانے سے متعلق تھا، اور دوسری تجویز تھی پارٹی میں سبھی فیصلہ لینے کا آئینی حق سنیترا کو دیے جانے سے متعلق۔ دونوں تجاویز کو میٹنگ میں منظوری مل گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔