پاکستان: ’بلوچ لبریشن آرمی‘ نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کو دیا انجام، کم از کم 20 پاکستانی فوجی ہلاک

سب سے زیادہ خراب حالت بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں ہے جہاں بلوچ لڑکوں نے ایک بینک کو لوٹنے کے بعد وہاں پر دھماکہ کر دیا۔ سڑکوں پر بھی وہ کھلے عام اسلحے لے کر گھومتے نظر آئے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر&nbsp; / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پاکستان کا بلوچستان صوبہ ایک بار پھر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہاں بلوچ جنگجوؤں نے آج بیک وقت تقریباً ایک درجن شہروں میں پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ٹھکانوں پر حملہ کر دیا۔ ان حملوں میں اب تک کم از کم 20 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا ہے۔

بی ایل اے کے ذریعہ جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے ایک ساتھ بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، قلات، خاران، گوادر، پسنی، ٹمپ اور بلیڈا واقع پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ کوئٹہ، پسنی، گوادر میں کیے گئے حملے فدائین نوعیت کے تھے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق سب سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں ہے، جہاں بلوچ لڑکوں نے ایک بینک لوٹنے کے بعد وہاں دھماکہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سڑکوں پر بلوچ جنگجو کھلے عام اسلحوں کے ساتھ گھومتے دکھائی دیے اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔


بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق ان کے حملوں میں اب تک تقریباً 20 پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مستونگ اور قلات میں بی ایل اے کے جنگجوؤں نے پاکستانی پولیس کی عمارتوں پر قبضہ کر کے انہیں وہاں سے بھگا دیا ہے، اور سمندر کی طرف جانے والی کئی شاہراہوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں تاکہ فوجی دستوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ بی ایل اے کے مطابق ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت یہ حملے اس کے فتح اسکواڈ، مجید بریگیڈ، زیراب اور اسٹوس نے انجام دیے۔

اس پورے معاملے پر تاحال پاکستانی فوج کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم خبروں کے مطابق پاکستانی فوج اور بی ایل اے کے جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ جاری ہے۔ اس دوران بی ایل اے کے 3 جنگجوؤ کی ہلاکت کی اطلاع بھی موصول ہو رہی ہے۔ آج صبح 6 بجے سے ہی بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان کے تقریباً ایک درجن شہروں کے مختلف علاقوں میں مسلسل حملے کر رہی ہے۔ بی ایل اے نے نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین کو یرغمال بھی بنا لیا ہے اور ان کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں محمد حسین خود اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ بلوچ جنگجوؤں کی تحویل میں ہیں۔