سمندر کی جگہ پہاڑ سے آنے والی ہے اگلی سنامی، تقریباً 93 لاکھ افراد کو خطرہ لاحق! ایک تحقیق میں انکشاف

آئی آئی ٹی رُڑکی کے گلیشیولاجسٹ رویندر کمار اور سوربھ وجئے کی اسٹڈی سے پتہ چلا ہے کہ 2022 میں ہمالیہ میں 31698 برفیلی جھیلیں پائی گئی، جن کا مجموعی رقبہ 2240 اسکوائر کلومیٹر تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ہمالیہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایسا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ خطرناک سنامی سمندر سے نہیں بلکہ ہمالیہ سے آئے گی۔ تقریباً 93 لاکھ لوگ اس خطرے کی زد میں ہیں، کیونکہ ہائی ماؤنٹین ایشیا (ایچ ایم اے) دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے زیادہ بلند مقام پر واقع جھیلیں پائی جاتی ہیں۔ یہ جھیلیں گلیشیئرز (برف) کے پگھلنے سے بنی ہیں۔ حال ہی میں ایک اسٹڈی میں سیٹلائٹ کی مدد سے ان جھیلوں کی مکمل فہرست تیار کی گئی اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ لگایا گیا۔

آئی آئی ٹی رُڑکی کے گلیشیولوجسٹ رویندر کمار اور سوربھ وجے نے یہ تحقیق کی ہے، جو رسالہ ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اسٹڈی کے مطابق 2022 میں ہمالیہ میں 31,698 برفانی یعنی برف کی جھیلیں پائی گئیں، جن کا مجموعی رقبہ 2,240 اسکوائر کلومیٹر تھا۔ یہ جھیلیں بنیادی طور پر 4,000 سے 5,400 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔ سوربھ نے ایک میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ برفیلی جھیلیں مشرقی ہمالیہ میں سب سے زیادہ رقبہ گھیرتی ہیں۔ 2016 سے 2024 کے درمیان جھیلوں کے رقبہ میں مجموعی طور پر 5.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کیلین شان علاقہ میں سب سے زیادہ 22.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پامیر میں سب سے کم 2.9 فیصد۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے ایک مکمل طور پر خودکار طریقہ تیار کیا، جس میں لینڈ سیٹ-8، سینٹینل-1، سینٹینل-2 اور کوپرنیکس ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈل جیسے اوپن سورس سیٹلائٹ ڈاٹا کا استعمال ہوا۔ یہ طریقہ پرانے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے، کیونکہ اس کی درستگی 96 فیصد سے زائد ہے، خاص طور پر چھوٹی جھیلوں (20,000 سے 100,000 اسکوائر میٹر) کی شناخت میں۔ یہ طریقہ ہمالیہ جیسے تیزی سے بدلتے علاقوں میں جھیلوں کی باقاعدہ نگرانی کے لیے مفید ہے۔ اس سے برفانی جھیلوں کے پھٹنے جیسی آفات کو سمجھنے اور روکنے میں مدد ملے گی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برفانی جھیلوں کی تعداد اور رقبہ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے نئی جھیلیں بن رہی ہیں اور پرانی جھیلیں پھیل رہی ہیں۔ ’انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ (آئی پی سی سی) کی رپورٹ کے مطابق 1950 کے بعد سے ’ہیٹ ویوز‘ اور بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث گلیشیئرز سکڑ رہے ہیں۔ ہمالیہ میں مانسون کے بدلتے انداز، زیادہ بارش اور گرمی کی وجہ سے پگھلا ہوا پانی بڑھ رہا ہے۔ انسانی سرگرمیاں، مثلاً جنگلات کی کٹائی اور ڈیموں کی تعمیر بھی مسئلے کو سنگین بنا رہی ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں برفانی جھیلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جھیلیں غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہیں۔


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ جھیلیں مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب آ سکتا ہے، جو گاؤں، سڑکوں، پلوں اور ڈیموں کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس سے لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں میں طغیانی اور ماحولیات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ پانی کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ گلیشیئرز سکڑ رہے ہیں۔ یہی گلیشیئرز 1.4 ارب لوگوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ اس کا اثر زراعت، ہائیڈرو پاور اور پینے کے پانی پر پڑے گا۔ اگر درجۂ حرارت مزید بڑھا تو جھیلیں مزید پھیلیں گی اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے متعلق واقعات میں اضافہ ہوگا۔ اسٹڈی کے مطابق اینڈیز جیسے علاقوں میں خطرہ ہمالیہ سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچے گا۔

برفانی جھیلوں کی تشویش ناک صورت حال کے باعث دنیا بھر میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ خطرے میں ہیں، جن میں سے 93 لاکھ (62 فیصد) ہمالیہ خطے میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً 30 لاکھ، پاکستان میں 20 لاکھ اور چین میں بھی لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمالیہ میں 10 لاکھ لوگ ایسی جھیلوں سے صرف 10 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں، جہاں وارننگ کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔ گزشتہ 190 برسوں میں ہمالیہ میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے 7,000 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ 2013 میں اتراکھنڈ کے کیدارناتھ حادثہ میں 6,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2023 میں سکم میں 46 اموات ہوئیں اور 88,400 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اگر یہ آفات بڑھیں تو لاکھوں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔


یہ تحقیق ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہمالیہ جیسے علاقوں میں نگرانی بڑھانا ناگزیر ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعہ پہلے ہی خطرات کی نشاندہی کر جان و مال کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ حکومتوں کو قبل از وقت وارننگ سسٹم مضبوط کرنے، ڈیموں کو محفوظ بنانے اور موسمیاتی تبدیلی روکنے کے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ صرف ایک خطہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔