
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والی اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے بدھ کو ملک میں ریل اور سڑک کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 13041 کروڑ روپے کی لاگت والے 5 اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کو منظوری دے دی ہے۔ مرکزی کابینہ کی منظوری میں 4 ملٹی ٹریکنگ ریل منصوبے اور بہار میں ایک 4-لین قومی شاہراہ منصوبہ شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے نقل و حمل کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، لاجسٹکس لاگت کم ہوگی اور مختلف ریاستوں میں معاشی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔
کابینہ کے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی ریلوے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مغربی بنگال، اڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش میں 4 ملٹی ٹریکنگ منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کی کل تخمینہ لاگت تقریباً 9450 کروڑ روپے ہے اور انہیں 31-2030 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد ہندوستانی ریل نیٹورک میں تقریباً 410 کلومیٹر کی اضافی صلاحیت شامل ہو جائے گی، جس کی وجہ سے مصروف ریل لائنوں پر ٹرینوں کی آمد و رفت زیادہ آسان ہوگی اور مال برداری میں بھی تیزی آئے گی۔
سب سے بڑا ریل منصوبہ کھڑگ پور-بھدرک (رانی تال) چوتھی لائن کا 173 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے، جس پر تقریباً 3352 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بھدرک-ہری داس پور چوتھی لائن منصوبے کے لیے 1583 کروڑ روپے، گمیدی پونڈی-گڈور تیسری اور چوتھی لائن منصوبے کے لیے 2229 کروڑ روپے اور کٹک-پارادیپ تیسری اور چوتھی لائن منصوبے کے لیے 2286 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں سے ریلوے نیٹورک کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسافر اور مال گاڑیاں زیادہ مؤثر طریقے سے چلائی جا سکیں گی۔
حکومت کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد صرف نقل و حمل کی سہولیات میں توسیع کرنا نہیں، بلکہ مستقبل میں مسافروں اور مال برداری کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ ریلوے نیٹورک میں اضافی پٹریاں بچھانے سے بھیڑ بھاڑ کم ہوگی، ٹرینوں کی وقت کی پابندی میں بہتری آئے گی اور صنعتی علاقوں کو بہتر لاجسٹک سہولت فراہم ہوگی۔
ان منصوبوں کو ’پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان‘ کے تحت تیار کیا جائے گا، جس سے ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹک کارکردگی کو فروغ ملے گا۔ ان ریلوے راستوں پر کوئلہ، لوہا، سیمنٹ، فولاد، کنٹینر، آٹوموبائل اور غذائی اجناس جیسی اہم اشیاء کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ صلاحیت میں اضافے سے سالانہ تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ ٹن اضافی مال برداری کی توقع ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے کئی اہم سیاحتی مقامات کو بھی بہتر ریل رابطہ حاصل ہوگا۔ ریلوے کے مطابق اس سے تقریباً 13 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی اور لگ بھگ 65 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی، جو تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ درخت لگانے کے برابر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔