’ووٹ کے حق سے محرومی من مانی اور آئین کے خلاف‘، جسٹس اجّول بھوئیاں کا اہم تبصرہ
جسٹس اجول بھوئیاں نے کہا کہ اگر کسی عمل سے بڑے پیمانے پر ہندوستانی شہری ووٹ کے حق سے محروم ہوتے ہیں تو وہ من مانی اور آئین کے آرٹیکل 326 و 14 کے خلاف ہوگا، ووٹر کا نام بغیر نوٹس حذف نہیں کیا جا سکتا

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجول بھوئیاں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تنازع کے درمیان کہا ہے کہ اگر کسی بھی انتخابی عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم ہونا پڑے تو ایسی کارروائی کو من مانی قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں یہ آئین کے آرٹیکل 326 اور 14 کی خلاف ورزی ہوگی۔
جسٹس اجول بھوئیاں نے یہ بات اتوار، 4 اکتوبر کو حیدرآباد میں واقع نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نالسار) لا یونیورسٹی میں منعقدہ 19ویں نالسار ’جسٹس بی آر ساہنی میموریل موٹ کورٹ‘ مقابلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کو کسی بھی دلیل کے ذریعے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جس کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی شہری اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں۔ ان کے مطابق، یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے مترادف ہوگا اور موجودہ آئینی نظام میں ایسی کارروائی کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین شہریوں کو دو زمروں میں تقسیم نہیں کرتا، جن میں ایک طبقے کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو اور دوسرے کو اس حق سے محروم رکھا جائے۔
جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ کسی ہندوستانی شہری کو ووٹ دینے کے حق یا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے حق سے محروم کرنا ایسا ہی ہے جیسے جسم سے روح کو الگ کر دیا جائے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی اتھارٹی ایسا نہیں کر سکتی اور نہ ہی کوئی عدالت اس کی اجازت دے سکتی ہے۔ آئین سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔
ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر بھی جسٹس بھوئیاں نے اہم تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مردہ ووٹر کے معاملے کو چھوڑ کر، ایک مرتبہ کسی ووٹر کا نام انتخابی فہرست میں شامل ہو جانے کے بعد اسے بغیر نوٹس دیے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر حذف نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے مختلف فیصلوں میں یہ واضح کر چکا ہے کہ ووٹ دینے کا حق شہری کا بنیادی حق نہیں ہے، تاہم اسے آئینی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جسٹس بھوئیاں کے مطابق، کسی ہندوستانی شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچے کے اصول کے مرکز میں ہے۔
جسٹس بھوئیاں کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کو لے کر سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل سے وابستہ حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خطاب میں کسی مخصوص معاملے یا ادارے کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے تبصرے کو ایس آئی آر کے حوالے سے اہم قانونی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
