خاتون صحافیوں کے جنسی استحصال پر پرینکا گاندھی کا مودی-شاہ سے سوال، ’کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟‘

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے جنتَر منتر پر احتجاج کی کوریج کے دوران خاتون صحافیوں کے جنسی استحصال پر وزیر اعظم مودی اور امت شاہ سے کارروائی نہ ہونے پر سوال کیا

<div class="paragraphs"><p> پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)</p></div>
i

کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے جنسی استحصال کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو گھیرتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر خواتین کے ساتھ ایسا برتاؤ غلط ہے تو حکومت نے اب تک اس معاملے کا نوٹس کیوں نہیں لیا۔

پرینکا گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 3 اکتوبر کو جنتَر منتر پر احتجاج کی کوریج کرنے والی خاتون صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درجنوں صحافیوں کی جانب سے احتجاج اور شکایات کے باوجود نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی کوئی ٹھوس کارروائی سامنے آئی۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والی خواتین نے پولیس کے رویے کو بھی انتہائی نامناسب قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس پولیس کی ذمہ داری خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اگر وہی خواتین کے لیے خطرے کا باعث بن جائے تو یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔


پرینکا گاندھی نے کہا کہ کالج کی طالبات سے لے کر صحافیوں تک، خواتین مختلف مقامات پر عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے براہ راست سوال کرتے ہوئے کہا، ’’نریندر مودی جی، امت شاہ جی، کیا خواتین کے ساتھ ایسا برتاؤ مناسب ہے؟ اگر نہیں، تو آپ اس معاملے کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟‘‘

ادھر ایک پولیس افسر نے اتوار کو بتایا کہ تین خاتون صحافیوں نے 3 اکتوبر کو جنتَر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان شکایات کے بعد نئی دہلی ضلع پولیس نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے شکایات کرائم برانچ کو بھیج دی ہیں۔

ان خاتون صحافیوں میں سے ایک نے الزام لگایا تھا کہ ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) نے اس کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔ پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

افسر نے بتایا کہ ضلع پولیس کو احتجاج کے دوران واقعات سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں، جنہیں غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے کرائم برانچ منتقل کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ الزامات کی جانچ کرے گی اور شکایت کنندگان سمیت معاملے سے وابستہ دیگر افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرے گی۔ دریں اثنا، پریس کونسل آف انڈیا نے احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے دہلی پولیس سے شکایات پر فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔