امریکہ نے ثالث کے ذریعے تجاویز بھیجیں، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 7 شرائط پر قائم: ایران
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ثالث کے ذریعے تہران کو کچھ تجاویز بھیجی ہیں۔ ایران نے سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کا اعلان کیا ہے

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایک ثالث کے ذریعے تہران کو کچھ تجاویز بھیجی ہیں، تاہم ان تجاویز کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی حکام میڈیا میں کچھ اور بیانات دیتے ہیں، جبکہ پسِ پردہ ثالثوں کے ذریعے تجاویز بھیجی جا رہی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، محمد باقر قالیباف نے ایرانی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی حکام میڈیا میں کچھ اور کہتے ہیں، لیکن حال ہی میں انہوں نے ثالثوں کے ذریعے تجاویز بھیجی ہیں۔‘‘
قالیباف نے امریکی تجاویز کی نوعیت یا ان میں پیش کی گئی شرائط کی وضاحت نہیں کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر ایران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق، جب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر پیش کی گئی ایران کی سات شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے تحت کام کرنے والی چھ رکنی کمیٹی امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی قیادت کرے گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حال ہی میں ایک ’’چھ رکنی ٹیم‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ ان کے مطابق امریکہ سے متعلق معاملات میں فیصلے کرنے کا اختیار اسی ٹیم کے پاس ہے اور تمام فیصلے اس کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد نافذ کیے جاتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ارکان کے بارے میں معلومات جاری کی تھیں۔ کمیٹی میں صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری، مسلح افواج کے سربراہ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف اور ایک اور رکن شامل ہیں۔
اسماعیل بقائی کے تازہ بیان سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بھی اس کمیٹی میں شمولیت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی میں وزیر خارجہ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کا سفارتی نظام قومی سلامتی سے متعلق بڑے فیصلوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگی میں کام کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے تہران نے ایک اعلیٰ سطحی فیصلہ ساز نظام تشکیل دیا ہے، جس میں سیاسی، سفارتی، سلامتی اور عسکری قیادت کے اہم نمائندے شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
