الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کا جلاد نہیں بن سکتا، گیانیش کمار عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں: ٹیکا رام مینا

کیرالہ کے سابق چیف الیکٹورل افسر ٹیکا رام مینا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر، فارم 6 میں تبدیلی اور کمیشن کی آزادی پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

کیرالہ کے سابق چیف الیکٹورل افسر ٹیکا رام مینا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اچھی طرح جانتے ہیں، کیونکہ دونوں کیرالہ کیڈر کے 1988 بیچ کے آئی اے ایس افسر رہے ہیں۔ مینا گیانیش کمار کو ایک قابل افسر اور اچھا دوست قرار دیتے ہیں، لیکن اس ذاتی تعلق کی وجہ سے اپنی بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتے۔ وہ بے باکی سے کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، ’’کیونکہ وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔‘‘

متنازع ایس آئی آر عمل میں گیانیش کمار کے کردار نے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور ووٹر فہرستوں کے حوالے سے سنگین شکوک پیدا کیے ہیں۔ تاہم، اس سے بڑھ کر ٹیکا رام مینا کی تشویش اس آئینی ادارے کو موجودہ حکومت کے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھتے ہوئے اسے مکمل طور پر آزاد رکھنے کی ہے۔

انہوں نے راجستھان میں اپنے آبائی ضلع سوائی مادھوپور سے فون پر کے. اے. شاجی سے گفتگو کی۔ پیش ہے گفتگو کے اہم اقتباسات:

سوال: آپ گیانیش کمار کو کئی دہائیوں سے جانتے ہیں۔ آپ دونوں 1988 بیچ کے آئی اے ایس افسر رہے ہیں۔ ایک افسر کے طور پر آپ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

ٹیکا رام مینا: ہم اچھے دوست رہے ہیں اور گیانیش کمار ایک قابل انسان ہیں۔ لیکن ذاتی دوستی اپنی جگہ ہے اور آئینی ذمہ داری اپنی جگہ۔ الیکشن کمیشن ایک انتہائی طاقتور آئینی ادارہ ہے۔ یہ کسی کا ماتحت نہیں ہو سکتا، نہ موجودہ حکومت کا اور نہ حکمراں جماعت کا۔ کمیشن کسی سیاسی آقا کو خوش کرنے کے لیے کام نہیں کر سکتا۔


سوال: الیکشن کمیشن کو دوسرے سرکاری اداروں سے کیا چیز الگ بناتی ہے؟

جواب: الیکشن کمیشن کو غیر جانب دارانہ انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسے جمہوریت اور وفاقیت کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ کمیشن عوام اور آئین کے تئیں جواب دہ ہے۔ حکومت یا حکمراں جماعت کمیشن کو یہ ہدایت نہیں دے سکتی کہ انتخابات کس طرح کرائے جائیں۔ کمیشن کو شفاف اور قابل اعتماد ہونا چاہیے۔ وہ برسر اقتدار جماعت کے ہاتھوں کا آلہ نہیں بن سکتا۔

سوال: آپ کیرالا کے چیف الیکٹورل افسر رہ چکے ہیں۔ اس تجربے نے آپ کے نقطۂ نظر کو کس طرح تشکیل دیا؟

جواب: جب میں چیف الیکٹورل افسر تھا تو کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت میں نے کبھی اس بات کی پروا نہیں کی کہ کیرالا میں کس جماعت کی حکومت ہے۔ اگر ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی تو میں نے کارروائی کی۔ اگر مثالی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو سخت قدم اٹھائے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ خلاف ورزی حکمراں جماعت نے کی ہے یا اپوزیشن نے۔ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانب دار ہونا ہی چاہیے۔


سوال: آپ نے گیانیش کمار کو خط کب اور کیوں لکھا تھا؟

جواب: میں نے گزشتہ سال نومبر میں انہیں خط لکھا تھا۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے کام کاج، خاص طور پر ایس آئی آر کو لے کر کئی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ میں گیانیش کو ذاتی طور پر جانتا تھا، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ انہیں براہ راست خط لکھوں۔

میں نے کئی سنگین خدشات کا اظہار کیا اور ان پہلوؤں کی نشاندہی کی جنہیں میں ضابطۂ کار کی خلاف ورزی سمجھتا تھا۔ لیکن انہوں نے میرے خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اس کے بعد میں نے باقی دونوں انتخابی کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی خط لکھا۔ ان میں سے ایک میرے بیچ میٹ ہیں اور دوسرے اچھے دوست ہیں۔ میں نے ان سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں، اپنی آئینی ذمہ داری ادا کریں، ضابطوں پر عمل کریں اور غلط فیصلوں کو چیلنج کریں۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بعد میں کمیشن کے اندر جو اختلافات سامنے آئے، ان کی وجہ آپ کا خط تھا؟

جواب: میرا خیال ہے کہ میرے مشوروں نے انہیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد دی۔ میرے خط کے بعد انہوں نے گیانیش کمار کے بعض فیصلوں پر سوال اٹھانا شروع کیا۔ مجھے اس بات کا اطمینان ہے۔

تینوں انتخابی کمشنروں کو آزادانہ طور پر اپنے صوابدیدی اختیار کا استعمال کرنا چاہیے۔ وہ صرف اس لیے کسی فیصلے پر مہر نہیں لگا سکتے کہ چیف الیکشن کمشنر نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے، یہ صرف گیانیش کمار نہیں ہیں۔


سوال: آپ نے ایس آئی آر کی سخت تنقید کی ہے۔ کیا آپ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف ہیں؟

جواب: بالکل نہیں۔ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی لازمی طور پر ہونی چاہیے۔ فہرستوں میں فرضی نام ہو سکتے ہیں، غلطیاں ہو سکتی ہیں، ایسے افراد کے نام ہو سکتے ہیں جن کا انتقال ہو چکا ہو یا جو کسی دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہوں۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے باہر نہ رہ جائے۔ ایس آئی آر کا عمل منصفانہ، شفاف اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ میری مخالفت اس کے طریقۂ کار اور وقت کو لے کر ہے۔ اتنے بڑے عمل کو انتخابات سے عین پہلے عجلت میں مکمل کرنا درست نہیں ہے۔

آخر ایسی جلدی کیوں؟ اسے انتخابی موسم میں ہی کیوں کیا جا رہا ہے؟ عوام کو اس عمل میں شامل کیجیے، سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیجیے، مقررہ طریقۂ کار پر عمل کیجیے اور لوگوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیجیے۔

سوال: فارم 6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی آپ کو شدید اعتراض ہے۔

جواب: فارم 6 انتخابی عمل کی بنیادی کڑی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے نئے ووٹروں کو فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ گیانیش کمار نے مقررہ طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر فارم 6 میں من مانی تبدیلیاں کیں۔ میں اسے غیر قانونی سمجھتا ہوں۔

آپ یک طرفہ طور پر فارم 6 کی شکل نہیں بدل سکتے۔ الیکشن کمیشن صرف اس لیے اپنی مرضی نہیں چلا سکتا کہ وہ الیکشن کمیشن ہے۔ ملک میں قانون ہے، ضابطے ہیں اور آئینی طریقۂ کار ہے۔ کمیشن کو ان سب کی پابندی کرنا ہوگی۔


سوال: گیانیش کمار اور دیگر دونوں انتخابی کمشنروں کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: جن فیصلوں سے وہ متفق نہیں ہیں، ان پر سوال اٹھانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ میں نے انہیں خط لکھ کر بھی یہی اپیل کی تھی کہ وہ غیر جانب دار رہیں، ضابطوں پر عمل کریں اور غلط باتوں کی مخالفت کریں۔

انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں بے بس ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ انہیں مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

سوال: آپ نے الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت کے تعلقات پر انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔

جواب: الیکشن کمیشن کو حکمراں جماعت کا پیچھے چلنے والا ساتھی نہیں بننا چاہیے۔ میں بالکل واضح الفاظ میں کہوں گا کہ یہ حکمراں جماعت کا جلاد نہیں بن سکتا۔ یہ اس مقصد سے کام نہیں کر سکتا کہ حکمراں جماعت کو ہی اقتدار میں برقرار رکھا جائے۔


سوال: آپ نے بیوروکریٹس کے وزیر اعظم نریندر مودی سے خوف زدہ ہونے کی بات کی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت کریں گے؟

جواب: الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے نریندر مودی یا کسی دوسرے وزیر سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حکومت کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ آئین کمیشن کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

اگر کوئی انتخابی کمشنر فیصلہ کرتے وقت یہ سوچنے لگے کہ وزیر اعظم کیا سوچیں گے تو سمجھ لیجیے کہ ادارہ اپنی آزادی پہلے ہی کھو چکا ہے۔

سوال: آپ نے کہا ہے کہ کچھ ریٹائرڈ بیوروکریٹس مودی حکومت سے ڈرتے ہیں۔ یہ ایک سنگین الزام ہے۔

جواب: جب راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھائے تو کئی ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر کھل کر ان کی مخالفت میں سامنے آ گئے۔ وہ اتنے دفاعی انداز میں کیوں پیش آ رہے تھے؟

میرا خیال ہے کہ ان میں سے بیشتر حکومت سے خوف زدہ ہیں۔ انہیں تفتیشی ایجنسیوں کا خوف ہے، انہیں نتائج کا ڈر ہے۔ وہ حکومت کا دفاع کرتے ہیں اور ایک ’فین کلب‘ کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ لیکن مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔


سوال: کیا آپ کا اشارہ اس طرف ہے کہ الیکشن کمیشن کسی سیاسی دباؤ میں کام کر رہا ہے؟

جواب: اس بات کا گہرا خدشہ ہے کہ گیانیش کمار دباؤ میں کام کر رہے تھے۔ میں اسے ثابت نہیں کر سکتا، لیکن سوال اس وقت اٹھتے ہیں جب کوئی ادارہ رازداری کی چادر اوڑھ لے، جب اہم فیصلے بغیر مناسب غور و فکر کے کیے جائیں اور جب مقررہ طریقۂ کار کو شفافیت کے بغیر تبدیل کر دیا جائے۔

سوال: آپ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رہا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی تبصرہ ہے۔

جواب: کمیشن کا رویہ ایسا ہے جیسے عوام ہی کوئی مسئلہ ہوں۔ ووٹر کوئی دشمن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا وجود عوام کے لیے ہے۔ ایس آئی آر صرف ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل ہے۔ اسے الیکشن کمیشن اور شہریوں کے درمیان ایک فرضی جنگ نہیں بننا چاہیے۔ اس کا مقصد ہر اہل ووٹر کو فہرست میں شامل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر یہی عمل ووٹروں کے ذہن میں خوف پیدا کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نظام میں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔


سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنی ساکھ کھو چکا ہے؟

جواب: ہاں، اس نے اپنی ساکھ کھو دی ہے اور اسے دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔ اسے عوام کا احترام اور اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔ اسی لیے میں کھل کر بول رہا ہوں۔ گیانیش کمار کے تئیں میرے دل میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ وہ میرے دوست ہیں۔ لیکن صرف اس لیے کہ وہ میرے دوست ہیں، میں خاموش نہیں رہ سکتا۔

سوال: آپ نے تو ان کے استعفے تک کا مطالبہ کر دیا ہے؟

جواب: اگر عوام کا آپ پر اعتماد ختم ہو گیا ہے تو آپ کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ اگر آزادانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری رکھنے والے کسی ادارے نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے تو اس کے سربراہ کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ میرا ماننا ہے کہ گیانیش کمار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہیں اپنے فیصلوں کے بارے میں عوام کو وضاحت بھی دینی چاہیے۔


سوال: کیرالا کے سابق چیف سیکریٹری ججی تھامسن کے اس الزام کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں کہ گیانیش کمار نے کبھی انہیں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تھا؟

جواب: یہ انتہائی سنگین الزام ہے۔ اگر کسی عہدے پر فائز ایک سینئر بیوروکریٹ نے دوسرے حاضر سروس سینئر بیوروکریٹ کے پاس جا کر اسے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تو یہ سیاسی غیر جانب داری پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صرف یہ الزام ہی سب کچھ ثابت کر دیتا ہے، لیکن یہ ایک سنگین الزام ہے اور اس کی تردید سامنے آنی چاہیے۔

سوال: آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ آپ اسے کس حد تک لے جانا چاہتے ہیں؟

جواب: میرا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران گیانیش کمار کے ذریعے لیے گئے تمام فیصلوں کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے۔ جو فیصلے قانون کے خلاف یا لازمی غور و خوض کے بغیر لیے گئے ہیں، ان پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ جواب دہی طے ہونی ہی چاہیے۔


سوال: آپ اب حکومت میں نہیں ہیں اور راجستھان میں رہتے ہیں۔ ان معاملات سے آپ کا تعلق کس طرح برقرار ہے؟

جواب: میں کھیتی باڑی اور سماجی خدمت میں مصروف ہوں۔ سماج سے جڑے مسائل پر اپنی بات رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں۔ میرے پاس بچانے کے لیے کوئی کرسی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی آقا ہے۔ اس لیے میں بے باکی سے بول سکتا ہوں۔ اور ایسا میں نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران بھی ہمیشہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔