قومی خبریں

ٹرمپ کا اعلان: ایران کے توانائی مراکز پر حملے 10 دن کے لیے روک دیے، مذاکرات پر زور

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی درخواست پر اس کے توانائی مراکز پر حملے 10 دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، کہتے ہیں کہ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں، مگر یہ وقفہ عارضی ہے یا جنگ بندی، ابھی واضح نہیں

<div class="paragraphs"><p>ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘

 

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے آئندہ دس دن کے لیے روک دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر لیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

Published: undefined

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے، اور یہ وقفہ 6 اپریل 2026 کی رات تک برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق اس دوران مذاکرات جاری رہیں گے اور انہیں امید ہے کہ یہ بات چیت مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ نے میڈیا میں جاری بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ بات چیت ’بہت اچھی طرح‘ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی کمزوری کے تحت نہیں بلکہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

Published: undefined

یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل اور توانائی کے مراکز پر شدید حملے کیے گئے تھے، جن کا مقصد تہران کی عسکری اور معاشی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا تھا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ دس روزہ وقفہ حالیہ کشیدگی میں پہلی نمایاں نرمی ہے، جو ممکنہ طور پر پس پردہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ قدم مکمل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف وقتی طور پر تناؤ کم کرنے کی ایک حکمت عملی۔

Published: undefined

اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران کو سخت انتباہ بھی دے چکے تھے کہ اگر آبنائے ہرمز کو محفوظ نہ بنایا گیا تو امریکہ بڑے پیمانے پر توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے گا۔ بعد ازاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ رعایتیں دیتے ہوئے تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ کھولنے کی اجازت دی، جسے انہوں نے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined