وینزویلا: چالیس سیکنڈز، صدیوں کا زخم
دو طاقتور زلزلوں نے وینزویلا میں وسیع تباہی مچائی، ہزاروں جانیں ضائع، لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ ڈیجیٹل رکاوٹیں اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی بحالی کو عالمی چیلنج بنا رہی ہیں

وینزویلا میں آنے والے تباہ کن دہرے زلزلوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں چودہ سو سے زائد ہلاکتیں اور لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے اداروں نے اس انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جن میں ستائیس ممالک کے ہزاروں ماہرین ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ زلزلوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور نظامِ زندگی درہم برہم ہونے کی وجہ سے بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل آنے والے آفٹر شاکس اور مواصلاتی پابندیاں بچاؤ کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ تمام ذرائع وینزویلا کی سنگین صورتحال، بین الاقوامی یکجہتی اور متاثرین کی فوری بحالی کے لیے جاری جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔
صدیوں پر بھاری چالیس سیکنڈز
محض 40 سیکنڈز—یہ وہ قلیل ترین دورانیہ ہے جس نے وینزویلا کی تقدیر کو ایک نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں دھکیل دیا۔ جہاں ایک ملک پہلے ہی دہائیوں سے سنگین معاشی بحران اور سماجی ابتری کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، وہاں قدرت کے اس دوہرے وار نے وینزویلا کی رہی سہی سماجی اور معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 24 جون 2026 کو آنے والے زلزلے محض زمین کی لرزش نہیں تھے، بلکہ ایک انسانی المیہ ہے جس نے 68 لاکھ زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ اب تک 1,430 جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ ہولناک حقیقت ملبے تلے دبی وہ 41 ہزار سسکیاں ہیں جو تاحال لاپتہ ہیں، اور جن کی تلاش میں وقت کی ریت تیزی سے پھسل رہی ہے۔
غیر معمولی ’ڈبل اسٹرائیک‘
سائنس کی نظر میں یہ زلزلہ ایک غیر معمولی "ڈبل اسٹرائیک" تھا۔ پہلا جھٹکا 7.2 شدت کا تھا، جس کے ٹھیک 40 سیکنڈز بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ بظاہر 0.3 کا یہ فرق معمولی لگتا ہے، لیکن "لوگارتھمک اسکیل" کی منطق کے مطابق، شدت کے ہر ایک ہندسے کا اضافہ زمین سے نکلنے والی توانائی کو 32 گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس حساب سے، 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ پہلے کے مقابلے میں دو گنا زیادہ طاقتور اور تباہ کن تھا۔
اس دہرے وار نے لاگوائرا، کارابوبو، مرانڈا، اور دارالحکومت کراکس سمیت شمالی ریاستوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ زلزلے کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے تباہی کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ پہلی لہر میں بچ جانے والی کمزور عمارتیں دوسری لہر کا بوجھ برداشت نہ کر سکیں اور لمحوں میں زمین بوس ہو گئیں۔
امدادی ٹیمیں اور 72 گھنٹوں کی جنگ
ملبے تلے دبے افراد کے لیے ابتدائی 72 گھنٹے زندگی اور موت کے درمیان ایک فیصلہ کن پل ہوتے ہیں۔ اِس وقت وینزویلا میں 27 ممالک سے آئے ہوئے 2,741 ماہر امدادی کارکن اور 140 سراغ رساں کتّے زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ان میں میکسیکو کی عالمی شہرت یافتہ ٹیم "لاس ٹوپوس"بھی شامل ہے، جو بلند و بالا عمارتوں کے ملبے میں جان کی بازی لگانے کے لیے مشہور ہے۔ میکوٹو جیسے ساحلی شہروں میں، جہاں 'ہوٹل ایڈورڈ' جیسی دیو ہیکل عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، وہاں امدادی کارکن بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث اپنے ہاتھوں سے پتھر ہٹا رہے ہیں۔ میکسیکن ٹیم کے رکن ڈیوڈ ایمانوئل ولا تیجیڈا نے اس کربناک صورتحال کو ان الفاظ میں بیان کیا— "صورتحال انتہائی مشکل ہے کیونکہ عمارتیں بہت بلند تھیں اور زلزلے پے در پے آئے۔ عمارتوں کے گرنے کے انداز کی وجہ سے زندگی کے آثار تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے، لیکن ہم ہمت نہیں ہارتے۔ ہم نے ماضی میں 10 دن بعد بھی ملبے تلے دبے افراد کو زندہ سلامت نکالا ہے۔"
معلومات کی بندش موت کا پیغام بن گئی
اس بحران کے دوران ایک تکلیف دہ پہلو وہ 'ڈیجیٹل تاریکی' ہے جس نے امدادی کاموں میں زہر گھول دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی مارٹا ہرتادو نے تصدیق کی کہ زلزلے کے انتہائی اہم اور ابتدائی گھنٹوں میں، جب لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا تھا، انٹرنیٹ پر پہلے سے موجود پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ زلزلے کے بعد پہلے 72 گھنٹوں میں معلومات کا بہاؤ پانی اور خوراک جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق پر پہرے بٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں لوگ اپنی لوکیشن شیئر نہ کر سکے، جس نے 41 ہزار لاپتہ افراد کی تلاش کو ایک ناممکن مشن بنا دیا۔
اربوں ڈالر کا معاشی دھچکا
یو این ڈی پی کے ذریعے کیے گئے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق، اس تباہی نے وینزویلا کو 6.7 ارب ڈالر کا براہ راست مادی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ رقم ملک کی مجموعی جی ڈی پی کے 6 فیصد کے برابر ہے۔ یہ معاشی زخم اس لیے بھی گہرا ہے کیونکہ وینزویلا پہلے ہی ایک منہدم ہوتی ہوئی معیشت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ متاثرہ علاقوں میں 17 لاکھ سے زائد عمارات موجود تھیں جو اب براہِ راست خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ 6.7 ارب ڈالر صرف گھروں اور مادی اثاثوں کا تخمینہ ہے؛ اس میں بجلی کے نظام کی معطلی، سڑکوں کی تباہی اور طویل مدتی تعمیرِ نو کے وہ اخراجات شامل نہیں ہیں جو اس ملک کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔
خوف کے سائے میں سیکڑوں آفٹر شاکس
زمین کی لرزش ابھی تھمی نہیں ہے۔ ریڈ کراس کی علاقائی ڈائریکٹر لوئز بیسے کے مطابق، اب تک 430 سے زائد 'آفٹر شاکس' ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ مسلسل تھرتھراہٹ نہ صرف امدادی کارکنوں کے لیے جان لیوا ہے بلکہ ان لاکھوں متاثرین کے لیے ایک نفسیاتی عذاب بن چکی ہے جو اپنے گھروں میں واپس جانے سے کتراتے ہیں۔ کراکس اور کارابوبو جیسے علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی اور مسلسل لرزتی زمین نے خوف کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ لوگ کھلے آسمان تلے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ 17 لاکھ عمارتوں کے ڈھانچے کی کمزوری نے ہر نئے جھٹکے کو ایک ممکنہ موت کا پیغام بنا دیا ہے۔
بحالی اقوام عالم کے لئے ایک چیلنج
وینزویلا کا المیہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ 27 ممالک کی یکجہتی اور 2,245 ماہرین کی جدوجہد اپنی جگہ، لیکن کیا ہم صرف آفات کے بعد ملبہ ہٹانے کے ماہر بن چکے ہیں؟ آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور"ریپِڈا" جیسے ٹولز سے نقصان کا تخمینہ تو لگا لیتے ہیں، لیکن کیا ہم ان ٹیکنالوجیز کو ایسے غریب اور سیاسی طور پر کمزور ممالک میں ڈھانچہ جاتی استحکام کے لیے استعمال کر پائیں گے جہاں 41 ہزار لوگ محض معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملبے تلے گم ہو جاتے ہیں؟ وینزویلا کی تعمیرِ نو کا راستہ طویل ہے، بہتر یہ ہوگا کہ عالمی ضمیر مستقبل کی ایسی آفات کے لیے "ردِ عمل" کے بجائے "تحفظ" کی حکمتِ عملی اپنائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
