امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار، ٹرمپ کا فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پانچ دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ایرانی میڈیا نے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے ڈھانچے پر مجوزہ امریکی فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہایت مثبت اور نتیجہ خیز سفارتی بات چیت ہوئی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات گہرے، تفصیلی اور تعمیری رہے ہیں اور ان کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا مکمل اور مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے توانائی کے مراکز کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی جائیں، تاہم یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نہ تو براہ راست اور نہ ہی بالواسطہ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تہران نے اس حوالے سے امریکی مؤقف کی تردید کی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو ایران کے توانائی نظام کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے توانائی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ مغربی ایشیا بھر میں توانائی تنصیبات پر حملے کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا تھا کہ تہران کسی جنگ بندی کا خواہاں نہیں ہے اور وہ ایسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتا جہاں وقتی وقفے کے بعد کشیدگی پھر بڑھ جائے۔ ادھر جاری تنازعہ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث خلیجی خطے میں فضائی پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور عالمی بحری تجارت میں بھی خلل پڑا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے عالمی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔