ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ’شہادت کی تصدیق‘، امریکہ کا 5 ہزار پاؤنڈ بنکر شکن بموں سے ایرانی ٹھکانوں پر حملہ
ایران نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، خطے میں شدید کشیدگی نظر آ رہی ہے

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے اپنے اعلیٰ سلامتی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی ایک حملے میں شہید ہوئے، جس میں ان کے بیٹے، کونسل کے نائب سلامتی سربراہ اور محافظ بھی مارے گئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا گیا، جس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بدلے کی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام پہلے ہی دعویٰ کر چکے تھے کہ حالیہ کارروائی میں علی لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ ایک رہائشی عمارت میں موجود تھے، تاہم اسرائیل نے اس حوالے سے تفصیلی سرکاری موقف جاری نہیں کیا۔
اسی دوران امریکہ نے بھی خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ساحلی علاقوں میں قائم میزائل اڈوں پر بھاری بمباری کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹھکانے بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے کیونکہ وہاں سے اینٹی شپ میزائل تعینات کیے گئے تھے۔
امریکی بیان کے مطابق اس کارروائی میں 5 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر شکن بم استعمال کیے گئے، جو زیرِ زمین یا مضبوط حفاظتی ڈھانچوں میں چھپے اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ نے اس اقدام کو عالمی بحری تجارت کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر خطرات بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت پر بھی پڑنے لگے ہیں۔
ادھر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک، خصوصاً نیٹو کے رویے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں کا ساتھ دیا مگر اس بحران میں مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو سکا۔
ایران بدستور اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دے رہا ہے، جبکہ اسرائیل اسے خطے کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تینوں ممالک کے بیانات اور جوابی کارروائیوں نے خطے کو ایک نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔