ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ جھوٹا، جوابی کارروائی کے خوف سے پیچھے ہٹ گیا امریکہ: ایران

ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد انخلاء خطرے سے بچنے کی کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ ایران کے فوجی ہیڈ کوارٹر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر اس کے رُخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایرانی ملٹری ہیڈ کوارٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر پوسٹ کرکے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ ٹرمپ کا مذاکرات کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کے بعد انخلاء خطرے سے بچنے کی کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایرانی ملٹری ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی کے ڈر سے ٹرمپ اپنے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے فوجی ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی پاور پلانٹ پر حملہ کیا تو اسرائیل کی بجلی، توانائی اور آئی سی ٹی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں وہاں پاور پلانٹس کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک کہ ہمارے تباہ شدہ پلانٹس کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاتا۔


اس سے قبل پیر کو امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اگلے 5 روز تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ نہیں کرے گا۔

ادھرایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اس جنگ کو شروع کرنے والا فریق نہیں ہے۔


ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے لیکن ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔