ڈریگن فلائی کی گمشدگی فطرت کے لیے خطرے کی گھنٹی!...ابھے شکلا

حیاتیاتی تنوع کی مسلسل تباہی سے ڈریگن فلائی، شہد کی مکھی اور دیگر حشرات تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، جس کے باعث گردہ افشانی، پھلوں کی پیداوار اور پورا ماحولیاتی نظام سنگین خطرات سے دوچار ہو گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی&nbsp; تصویر / اے آئی</p></div>
i

حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) شاید قدرتی ماحول کا سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا پہلو ہے۔ اگر کبھی پالیسی سازوں کی توجہ اس جانب جاتی بھی ہے تو وہ عموماً درختوں اور جانوروں تک ہی محدود رہتی ہے، حالانکہ حیاتیاتی تنوع صرف درختوں اور جانوروں کا نام نہیں، بلکہ یہ فطرت کی وہ بنیادی اکائی ہے جس کے بغیر نہ قدرتی نظام قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی یہ کرۂ ارض انسانی زندگی کے لیے موزوں رہ جائے گا۔

حیاتیاتی تنوع سے مراد زمین پر موجود تمام جانداروں کی غیر معمولی گوناگونی ہے۔ اس میں پودے، جانور، خرد نامیے (مائیکرو آرگینزم)، پھپھوند (فنجائی) اور یہاں تک کہ جراثیم (پیتھوجینز) بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ان جانداروں کی جینیاتی خصوصیات اور ان سے تشکیل پانے والے پیچیدہ ماحولیاتی نظام بھی اسی کا حصہ ہیں۔

میں نے زندگی کے مختلف تجربات اور حالات کے نشیب و فراز سے گزر کر اس حقیقت کو محسوس کیا اور اب جا کر اس کی اہمیت کو کسی حد تک سمجھ پایا ہوں۔ سنہ 2002 میں جب میں نے پرانی کوٹی گاؤں میں آدھا ایکڑ زمین خریدی تو وہاں صرف دو مکانات تھے۔ پورا علاقہ گھاس سے ڈھکی ہوئی نشیب و فراز والی پہاڑیوں پر مشتمل تھا، جہاں سیب کے چند درختوں کے علاوہ دیودار اور بلیو پائن کے درخت بھی موجود تھے۔ میرے اپنے قطعۂ زمین پر جنگلی ڈیزی، بٹرکپ، للی اور پرائم روز کے پھولوں کی چادر بچھی رہتی تھی۔ یہ جگہ شہد کی مکھیوں، تتلیوں، جھینگروں اور ڈریگن فلائی (بھنبھیری) سے بھری رہتی تھی۔ دھوپ والے دنوں میں ان کی مسلسل بھنبھناہٹ فضا میں ایک خوشگوار موسیقی پیدا کرتی تھی۔ خوراکی زنجیر میں پرندے ان کیڑوں سے اوپر جبکہ جنگلی بلیاں اور پائن مارٹن (نیولے کی ایک قسم) ان سے اوپر تھے۔ یوں پرانی کوٹی حقیقی معنوں میں حیاتیاتی تنوع کا ایک اہم مرکز تھا۔

مگر اب صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ گاؤں کی زیادہ تر زمین پر کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی ہو گئی ہیں، درخت کاٹ دیے گئے ہیں اور ڈریگن فلائی کی بھنبھناہٹ کی جگہ اب کنکریٹ توڑنے والی مشینوں اور آریوں کی کان پھاڑ دینے والی آوازوں نے لے لی ہے۔ اس نقصان کی تلافی کے لیے میں نے اپنی زمین پر 200 سے زیادہ پھلدار اور جنگلی اقسام کے درخت لگائے، لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، کیونکہ صرف ایک پلاٹ پر درخت لگا دینے سے حیاتیاتی تنوع دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔


اس پورے علاقے میں قدرتی ماحول کی سب سے نچلی تہہ، یعنی گھاس، جھاڑیاں، فرن، جنگلی پھول اور بیلیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ نتیجتاً مٹی بارش اور برف کا پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی اپنی قدرتی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ فطرت کی اس بنیادی اکائی کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس پر انحصار کرنے والے بے شمار کیڑے مکوڑے بھی آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے ہیں۔ اگرچہ چند تتلیاں اور شہد کی مکھیاں اب بھی دکھائی دے جاتی ہیں، لیکن اس سال میں نے ایک بھی ڈریگن فلائی نہیں دیکھی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مسکن اب ہمیشہ کے لیے یہاں سے ختم ہو چکا ہے۔ شاید ایک دو برس میں شہد کی مکھیاں اور تتلیاں بھی اس بنجر علاقے کو چھوڑ دیں، جہاں حیاتیاتی تنوع تقریباً باقی نہیں رہا۔

عالمی حدت کے ساتھ یہی وہ بنیادی وجہ معلوم ہوتی ہے جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اب ہم وہ پھل، مثلاً سیب، ناشپاتی، خوبانی اور چیری، کیوں نہیں اگا پا رہے جو کبھی یہاں آسانی سے پیدا ہوتے تھے۔ حیاتیاتی تنوع کی تباہی کے باعث نہ تو ان کے پھولوں کی گردہ افشانی کرنے والے کیڑے باقی رہے ہیں اور نہ ہی بیجوں کو پھیلانے والے پرندے۔

حیاتیاتی تنوع کے اس نقصان کو ہماری منصوبہ بندی اور ترقیاتی عمل میں شاید ہی کبھی سنجیدگی سے شامل کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ درختوں یا سبزے کے رقبے پر غور کیا جاتا ہے۔ کتنے درخت کاٹے گئے، ان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، ان کی قیمت وصول کی جاتی ہے اور پھر اس کے بدلے دوگنے درخت لگا دیے جاتے ہیں، جسے تلافیاتی شجرکاری کہا جاتا ہے۔ مگر اس پوری مشق میں حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں۔

ہماچل پردیش کے چند اعداد و شمار اس حقیقت کو بہتر انداز میں واضح کرتے ہیں۔ ریاست میں جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 37 لاکھ ہیکٹر ہے، اور بھوپال کے فاریسٹ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی 2024 کی ایک تحقیق کے مطابق ان جنگلات کی حیاتیاتی تنوع کی سالانہ مالیت تقریباً 33 ہزار کروڑ روپے ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جنگل کے ہر ہیکٹر سے حاصل ہونے والے حیاتیاتی تنوع کی سالانہ قدر تقریباً 89 ہزار روپے بنتی ہے۔ اگر کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی اوسط عمر 25 سے 30 سال مانی جائے اور اس بنیاد پر خالص موجودہ قدر (نیٹ پریزنٹ ویلیو) کا حساب لگایا جائے تو ریاست کو جنگلات کے ہر اس ہیکٹر کے عوض، جسے غیر جنگلاتی استعمال کے لیے مختص کیا جاتا ہے، کم از کم 30 لاکھ روپے وصول کرنے چاہییں۔ لیکن ایسا نہیں کیا جاتا، کیونکہ حیاتیاتی تنوع کی کوئی باقاعدہ معاشی قدر ہی مقرر نہیں کی گئی۔


اگرچہ عالمی سطح پر اس سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے، مگر ہندوستان میں اب بھی ہر سال عظیم الشان اور نمائشی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ایسے منصوبے جو جنگلات پر انحصار کرنے والی ہزاروں برادریوں کے روزگار کو تباہ کر دیتے ہیں، مگر چند بااثر سرمایہ داروں کی دولت میں کھربوں ڈالر کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پیرو دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بغیر ڈنک والی شہد کی مکھیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔

ایمیزون کے جنگلات میں پائی جانے والی یہ ننھی مکھیاں ماحولیاتی نظام کے لیے بے حد اہم ہیں، کیونکہ وہ وہاں پیدا ہونے والے تقریباً 80 فیصد استوائی پھلوں کی گردہ افشانی کرتی ہیں۔ اسی ماہ منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت ان مکھیوں کو بقا کا حق، صاف اور محفوظ مسکن کا حق، افزائشِ نسل کا حق اور ایسی صورت میں قانونی نمائندگی حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے جب آلودگی، جنگلات کی کٹائی یا ترقیاتی منصوبے ان کے وجود کے لیے خطرہ بنیں۔ اب کوئی بھی کمپنی یا فرد اگر ان حقوق کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح ویلز میں دریائے وائی کو اس کے منبع سے سمندر تک ’حقوقِ فطرت‘ کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ اس نئے چارٹر کے مطابق دریا کو ایک زندہ ماحولیاتی نظام تسلیم کیا گیا ہے، جس کے اپنے بنیادی حقوق ہیں، مثلاً آزادانہ بہنے کا حق، اپنی حیاتیاتی تنوع برقرار رکھنے کا حق، آلودگی سے پاک رہنے کا حق، دوبارہ قدرتی حالت میں بحال ہونے کا حق اور صحت مند آبی ذخیرے سے جڑے رہنے کا حق۔ اب کوئی بھی شہری ان حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ نے بھی دریائے وانگانوئی کو قانونی شخصیت کا درجہ دے رکھا ہے، جبکہ ماؤنٹ تراناکی کو آٹھ رکنی سرپرست کونسل کے ذریعے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس کونسل میں چار حکومتی ماہرین اور چار مقامی قبائلی نمائندے شامل ہیں، اور اس کی منظوری کے بغیر وہاں کوئی بھی سرکاری یا نجی منصوبہ منظور نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان میں بھی 2017 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے دریائے گنگا کو قانونی حقوق کے ساتھ ایک ’زندہ وجود‘ قرار دیا تھا، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر پراسرار انداز میں روک لگا دی، جس کے باعث یہ معاملہ آج تک زیر التوا ہے۔


پیرو اور ویلز کے یہ قوانین اس نئی سوچ کی ابتدائی مثالیں ہیں، جس میں صرف درختوں یا جنگلات کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے پورے ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ہماری حکومتیں، عدالتیں اور نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) بھی ان پیش رفتوں سے سبق لیں گے، اپنی ہمہ دانی کے زعم سے باہر نکلیں گے اور ماحولیات کے مسائل کے بارے میں اپنی طویل غفلت، سستی اور کم فہمی کو ترک کریں گے۔ شاید تب ہی ڈریگن فلائی ایک بار پھر پرانی کوٹی واپس لوٹ سکے گی اور اس قدرتی مسکن کو دوبارہ حاصل کر سکے گی، جو درحقیقت اس کا قانون حق کا ہے۔

(ابھے شکلا ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ مضمون ان کے بلاگ سے ماخوذ ہے اور ادارتی ضرورت کے مطابق ترمیم کے بعد پیش کیا گیا ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔