قومی خبریں

لدھیانہ واقع فیکٹری میں زہریلی گیس خارج ہونے کے بعد بھگدڑ، دم گھٹنے سے باپ بیٹے سمیت 3 افراد ہلاک، متعدد بے ہوش

پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چل رہا ہے کہ حادثے کی وجہ گیس کا اخراج ہے، حالانکہ فیکٹری میں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا گیا یا نہیں، اس کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریب</p></div>

فوٹو ویڈیو گریب

 
ali

لدھیانہ واقع آر کے روڈ میں پانا-چابی (ٹول) بنانے والی ایک فیکٹری میں اتوار کو دیر رات زہریلی گیس کا اخراج ہوا جس میں باپ بیٹے سمیت 3 ملازمین کی موت ہو گئی۔ گیس کے اخراج کے باعث فیکٹری کے احاطے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران گیس کی زد میں آنے سے کئی دیگر مزدور بے ہوش ہو گئے جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی موتی نگر تھانے کی پولیس سمیت مختلف ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچاؤ نیز ریسکیو کام شروع کیا۔

Published: undefined

عینی شاہدین کے مطابق فیکٹری میں روزانہ کی طرح مینوفیکچرنگ جاری تھی۔ اسی دوران اچانک گیس پائپ لائن یا سلنڈر لیک ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے زہریلی گیس پورے احاطے میں پھیل گئی۔ گیس کا اثر اتنا خطرناک تھا کہ وہاں کام کر رہے مزدوروں کو سنبھلنے یا باہر نکلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ آنکھوں میں خارش اور سانس لینے میں دشواری کے سبب کئی مزدور موقع پر ہی نڈھال ہو کر گر گئے۔

Published: undefined

اس المناک حادثے میں جان گنوانے والے متوفیوں کی شناخت مانا اور ان کے بیٹے امت کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ پولیس تیسرے متوفی کی شناخت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ واقعہ کے وقت دونوں مشین کے نچلے حصے سے نکلنے والی مٹی کو ٹرالی میں لوڈ کر رہے تھے، تبھی وہ اچانک مہلک گیس سے براہ راست رابطے میں آ گئے۔ متوفی امت اپنے پیچھے ایک سال کی بیٹی، بیوی، دو بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی کو روتا چھوڑ گیا ہے۔ گھر کے 2 اہم کمانے والے ممبران کی موت سے پورے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

Published: undefined

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں ایمبولینس کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حادثے کی وجہ گیس کا اخراج ہے حالانکہ  فیکٹری میں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا گیا یا نہیں، اس کی گہرائی سے جانچ کی جارہی ہے۔ وہیں موتی نگر تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر بھوپندر سنگھ نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

Published: undefined

متوفی مان سنگھ کی بیٹی رینو نے بتایا کہ ان کے والد کو دیر رات فیکٹری میں کام کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب گیس کا اخراج ہوا تب فیکٹری مالک خود ہی تمام متاثرین کو اسپتال لے کر پہنچے تاہم گھر کے کسی فرد کو اطلاع نہیں دی گئی۔ وہیں صبح جب اس کے والد گھر واپس نہ آئے تو فیکٹری جا کر دیکھا۔ اس دوران پتا چلا کہ کچھ مزدور گیس کے اخراج کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ہیں اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ رینو نے بتایا کہ جب وہ اسپتال پہنچی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد مان سنگھ اور امت کی موت ہو چکی ہے۔ معاملے میں افسران کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید کارروائی کی جارہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined