5 سالوں میں 40 مرتبہ ’فیل‘ ہوا قومی شاہراہوں کا انفراسٹرکچر، مودی حکومت کا پارلیمنٹ میں اعتراف

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی شاہراہوں کے انفراسٹرکچر کی ناکامی سے ہوئے حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>شاہراہ کی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران ملک میں قومی شاہراہوں (نیشنل ہائی ویز) پر پیش آنے والی بڑی بنیادی ڈھانچہ جاتی ناکامیوں (انفراسٹرکچر فیلیئرز) کی تفصیلات پیش کیں۔ ملک بھر میں پلوں، فلائی اوورز اور سڑکوں کے منہدم ہونے کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات کے درمیان مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں قومی شاہراہوں کی صورت حال پر کچھ ایسی جانکاریاں سامنے رکھیں، جو فکر انگیز ہیں۔

مرکزی حکومت کے مطابق گزشتہ 5 برسوں اور رواں سال کے دوران قومی شاہراہوں پر بنیادی ڈھانچے کی ناکامی کے 40 بڑے واقعات درج کیے گئے۔ ان میں پلوں، فلائی اوورز، سڑکوں، سرنگوں اور دیگر ڈھانچوں کے منہدم ہونے یا شدید نقصان پہنچنے کے واقعات شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ریاستی شاہراہیں ریاستی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں، جبکہ مرکزی حکومت صرف قومی شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے بڑا حادثہ سال 2022 میں جموں و کشمیر کے خونی نالہ میں پیش آیا، جہاں ایڈٹ پورٹل کے منہدم ہونے سے 10 مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش میں 2، بہار میں 2، کیرلم میں ایک، مدھیہ پردیش میں 2، تمل ناڈو میں ایک، اتر پردیش میں 2، جبکہ آسام اور دہلی میں ایک ایک شخص کی جان گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں قومی شاہراہوں سے متعلق بنیادی ڈھانچہ جاتی ناکامی کے سب سے زیادہ 8 واقعات کیرلم میں درج کیے گئے۔ اس کے بعد مہاراشٹر 7 واقعات کے ساتھ دوسرے اور بہار 5 واقعات کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ اتر پردیش، ہریانہ اور مغربی بنگال میں 3-3 واقعات درج کیے گئے ہیں۔


راجیہ سبھا میں ایک دوسرے سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ صرف 2025 اور 2026 کے دوران ہی قومی شاہراہوں کے 19 منصوبوں میں سڑک دھنسنے، پلوں میں دراڑیں پڑنے، گرڈر گرنے، باکس کلورٹ منہدم ہونے، آر ای وال ہونے اور دیگر ساختی خامیوں کے واقعات سامنے آئے۔ ان میں گجرات، کرناٹک، کیرلم، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، اتر پردیش، مغربی بنگال اور میگھالیہ کے منصوبے شامل ہیں۔ حکومت نے تسلیم کیا کہ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سمیت کئی قومی شاہراہ کے منصوبوں میں حالیہ برسوں کے دوران ساختیاتی خامیوں اور نقصان کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان تمام معاملات کی ریاست وار تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی گئیں۔

حکومت کے مطابق قصوروار ایجنسیوں اور افسران کے خلاف مختلف سطحوں پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ان میں کروڑوں روپے کے جرمانے، ٹھیکوں کی منسوخی، بلیک لسٹ اور ڈی بار کرنا، افسران کی معطلی، ناقص کارکردگی دکھانے والی ایجنسیوں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ حصوں کی مرمت و از سر نو تعمیر شامل ہیں۔ کئی معاملات میں ٹھیکیداروں پر 30 کروڑ روپے سے زائد، 119 کروڑ روپے اور دیگر بھاری مالی جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ متعدد منصوبوں میں انجینئرنگ فرموں اور آزاد انجینئروں کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔


سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہوں کی وزارت نے بتایا کہ کارکردگی کے جائزے اور لاپروائی کی بنیاد پر 11 افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ مزید 11 افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام قومی شاہراہیں ’انڈین روڈس کانگریس‘ کے معیار کے مطابق تعمیر کی جاتی ہیں۔ تعمیراتی کام کی نگرانی کے لیے اتھارٹی انجینئر، آزاد انجینئر، محکمہ جاتی معائنہ اور تھرڈ پارٹی کوالٹی آڈٹ جیسے نظام نافذ ہیں۔ ضرورت پڑنے پر تعمیر مکمل ہونے سے پہلے آزادانہ معیار کی جانچ بھی کرائی جاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔