کسان تحریک کے آگے جھکنے کو مجبور ہوئی مدھیہ پردیش حکومت، 25 فیصد کی جگہ 60 فیصد مونگ خریدنے کا فیصلہ
مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت ایندل کنسانا نے کہا کہ کسان نمائندوں سے بات چیت کے بعد مدھیہ پردیش حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت مونگ کی خرید 25 فیصد کی جگہ 60 فیصد کرے گی۔

بھوپال میں کسانوں کی تحریک کے آگے مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت جھکنے کو مجبور ہو گئی ہے۔ کسانوں کے احتجاجی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے بی جے پی حکومت نے 3 بڑے فیصلے لیے ہیں، حالانکہ ان فیصلوں کسانوں کا ایک طبقہ ہی خوش ہے۔ یعنی بڑی تعداد میں کسان اب بھی احتجاجی مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت ایندل کنسانا نے مونگ دال کی خریداری سے متعلق فیصلے کی معلومات فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی اسکیموں کے تحت مونگ کی 25 فیصد خرید کا انتظام ہے، حالانکہ اب مدھیہ پردیش حکومت نے اسے بڑھا کر 60 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی اب ریاستی حکومت کسانوں سے 25 فیصد کی جگہ 60 فیصد مونگ خریدے گی۔ ایندل کنسانا نے بتایا کہ کسان نمائندوں سے بات چیت کے بعد مدھیہ پردیش حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی سلاٹ بکنگ کی مدت میں بھی 10 دن کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب اس کی آخری تاریخ 10 اگست کے بجائے 20 اگست ہوگی۔
وزیر زراعت نے کہا کہ ای-ٹوکن سے متعلق کسانوں کو پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر آئندہ انہیں بہتر سہولت فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی انتظامی ترتیب کی وجہ سے یہ پریشانی پیدا ہو رہی تھی۔ کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر اصلاحات مکمل ہونے تک ای-ٹوکن نظام کے ذریعے غذائی اجناس کی تقسیم کو فوری اثر سے معطل کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے اعلان کے بعد کسان تنظیموں نے آپس میں بات چیت کی، لیکن اتفاق رائے نہیں بن سکا۔ نصف کسان تنظیمیں حکومت کے فیصلے سے متفق ہیں، جبکہ بقیہ نصف تنظیمیں اس سے اختلاف کر رہی ہیں۔ کسان فی الحال بان گنگا چوراہے پر احتجاج کے لیے پہنچے، جہاں پولیس نے ڈمپر گاڑیوں کے ذریعے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کے فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر احتجاجی کسان نعرے بازی کرتے ہوئے نظر آئے۔ کسانوں کے مطالبات سننے کے لیے تشکیل دی گئی 4 وزراء پر مشتمل کمیٹی نے 16 مختلف کسان تنظیموں کے لیڈران سے ملاقات کی، لیکن اس کے باوجود کسان وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنا اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران مائک کے ذریعے اعلانات کر کے مظاہرہ کرنے والے کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔
