دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفنز کالج میں نئے ڈریس کوڈ پر طلبا کا ہنگامہ، این ایس یو آئی نے بھی ناراضگی کا کیا اظہار

این ایس یو آئی نے سینٹ اسٹیفنز کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ڈریس کوڈ سے متعلق فیصلے کو فوراً واپس لیا جائے، طلبا کے ساتھ بات کی جائے اور ان کے آئینی حقوق و شخصی آزادی کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
i

دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفنز کالج میں نئے تعلیمی سیشن کے لیے جاری کیے گئے ڈریس کوڈ پر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ کالج انتظامیہ نے کلاس روم، ٹیوٹوریل روم، لیب، لائبریری، ڈائننگ ہال اور اسمبلی ہال سمیت کیمپس کے کئی حصوں میں طلبا کے شارٹس پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بعض طلبا نے اس کی مخالفت کی۔ اب نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے بھی کالج کے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

این ایس یو آئی نے اس سلسلے میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ شارٹس پہننے پر پابندی طلبا کی شخصی آزادی اور آئین کی طرف سے حاصل حقوق کے خلاف ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا کام طلبا کی سوچ کو فروغ دینا ہے، نہ کہ ان کی ذاتی پسند پر پابندیاں عائد کرنا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ ’’ہندوستان کا آئین ہر شہری کو یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ کیا پہنے، کیا کھائے اور کیا بولے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو طلبا میں آزادانہ سوچ اور تنقیدی فکر کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ ان کی ذاتی پسند پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔‘‘


جاکھڑ کا کہنا ہے کہ ’’آج کی نوجوان نسل، خاص طور پر جین-زی، آئین میں موجود اقدار پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی قسم کی اخلاقی نگرانی (مورل پولیسنگ) یا کسی مخصوص نظریے کو مسلط کرنے کی کوشش کو قبول نہیں کرے گی۔‘‘ بیان میں این ایس یو آئی نے الزام لگایا کہ اگر یونیورسٹیوں اور کالجوں کو آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے مطابق چلانے کی کوشش کی گئی تو تنظیم ہر سطح پر اس کی مخالفت کرے گی۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ہندوستانی آئین پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی قسم کی نظریاتی مداخلت کی مخالف ہے۔

این ایس یو آئی نے اپنے بیان میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آر ایس ایس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے اٹھائے گئے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ سینٹ اسٹیفنز کالج کا یہ فیصلہ بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت طلبا کی آزادی اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ این ایس یو آئی نے کہا کہ یونیورسٹیاں جمہوری مکالمے، سائنسی سوچ اور اظہار رائے کی آزادی کے مراکز ہونی چاہئیں، نہ کہ کسی مخصوص نظریے کی تجربہ گاہ۔ تعلیمی اداروں میں طلبا کے حقوق اور شخصی آزادی کو کمزور کرنے کی ایسی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔


این ایس یو آئی نے سینٹ اسٹیفنز کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈریس کوڈ سے متعلق اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے، طلبا کے ساتھ بات چیت کی جائے اور ان کے آئینی حقوق اور شخصی آزادی کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کا آئین سب سے بالاتر ہے اور طلبا کے حقوق سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔