قومی خبریں

خودکشی کرنے والی تینوں بہنیں کوریائی ثقافت سے اتنی زیادہ متاثر تھیں کہ ان کے اہل خانہ سخت پریشان تھے

غازی آباد میں تین کمسن بہنوں کی خودکشی کیس میں بڑا انکشاف ہوا ہے۔ لڑکیاں کوریائی ثقافت سے بہت متاثر تھیں اور کورین لڑکے سے شادی کرنے کی خواہشمند تھیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

غازی آباد میں تین نابالغ بہنوں کی خودکشی نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکیاں کورین لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔ کوریائی ثقافت سے ان کو اتنی زیادہ محبت تھی کہ ان کے اہل خانہ سخت پریشان تھے اور اس ہی وجہ سے ان کے موبائل فون چھین لیے گئے تھے۔

Published: undefined

یہ بات قابل غور ہے کہ کورین ثقافت کی خاصیت یہ ہے کہ کے ڈراموں، اور کے پاپ محبت اور خاندانی جذبات پر مبنی ہوتے ہیں، جن سے لوگ آسانی سے جڑ جاتے ہیں۔ کوریا کا جدید اور روایتی طرز زندگی کے فوڈ اور کے فیشن  کی خوبصورتی بھی نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورین فلمیں، سیریلز اور فلمیں ہندوستان میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

Published: undefined

پولیس کے مطابق منگل کی رات تقریباً 2 بجے تینوں بہنوں نے اپنے کمرے کو اندر سے بند کر لیا۔ پھر، اسٹول کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے  ایک ایک کرکے بالکونی سے چھلانگ لگا ئی۔ ابتدائی طور پر پڑوسیوں نے اسے گھریلو  واقعہ سمجھا لیکن کچھ ہی دیر میں پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

Published: undefined

متوفی بہنوں کی شناخت نشیکا (16)، پراچی (14) اور پاکھی (12) کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے تینوں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک صفحے پر مشتمل خودکشی نوٹ برآمد ہوا ہے جس پر لکھا ہے ’’معاف کیجئے گا ماں، پاپا‘‘۔ گھر سے آٹھ صفحات کی ڈائری بھی ملی ہے۔ ڈائری میں لڑکیوں نے لکھا کہ وہ کورین کلچر، کورین فلموں، شوز، میوزک اور یوٹیوبرز سے بہت متاثر ہیں۔

Published: undefined

ڈائری میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے اہل خانہ نے ان کے موبائل فون بند کر دئے  تھے اور وہ کوریائی ثقافت سے علیحدگی کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں کسی آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم یا کوریائی محبت کی گیم کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ لڑکیاں سادہ کھیل کھیلتی تھیں، جو پلے اسٹور پر دستیاب ہیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined