بی جے پی کے ایک وزیر اعلیٰ کا مسلم سماج کو ہدف بنا کر دیا گیا بیان جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی: کھڑگے
راجیہ سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ملک میں خاص طبقہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور بلڈوزر پالیٹکس کو حکمت عملی کی شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

’’میں مودی حکومت سے جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کس طرح کا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں؟ انصاف، آزادی، مساوات اور محبت کے اصولوں سے نریندر مودی کو پرہیز دکھائی دیتا ہے۔ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے عالیشان تقاریب اور پروپیگنڈے عوام کو تھوڑے وقت کے لیے گمراہ کر سکتے ہیں، لیکن آپ نے غریب، خواتین، محروم، دلت، قبائلی، اقلیت، پسماندہ طبقات، مزدور، کسان و طلبا کے مفادات پر چوٹ پہنچائی ہے، انھیں مایوس کیا ہے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ایوان بالا میں اپنی تقریر کے دوران دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ ’’ہم اپوزیشن کی شکل میں سوال اٹھاتے رہیں گے اور پارلیمنٹ کے باہر بھی بولنا جاری رکھیں گے۔ عوامی بیداری ہماری اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔‘‘
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر شکریہ کی تحریک کے دوران اپنی بات رکھتے ہوئے کھڑگے نے مودی حکومت کی کئی محاذ پر ناکامیوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوجوانوں کی تکلیف سے مودی حکومت کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر انھیں مطلب ہوتا تو کم از کم سرکاری بھرتیاں نکالتی۔ لیکن آج مرکزی حکومت میں 9.07 لاکھ سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔ پبلک سیکٹر، پولیس اور بقیہ محکموں کو ملا کر 50 لاکھ سے زیادہ اسامیاں ہیں۔ ایسے میں بلیٹ ٹرین، بلیک منی واپس لانا، 2 کروڑ ملازمتیں... یہ سارے جملے کہاں گئے؟‘‘ یہ سوال پوچھنے کے بعد وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی بہت جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘
مودی حکومت میں اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر انھوں نے اپنی تقریر میں خاص طور سے کیا۔ انھوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کے ایک وزیر اعلیٰ نے مسلم سماج کو نشانہ بنا کر بیان دیا، یہ جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ وزیر اعلیٰ ہمیشہ پولرائزیشن کی بات کرتا ہے، مسلمانوں کے خلاف بات کرتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ملک میں خاص طبقہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور بلڈوزر پالیٹکس کو حکمت عملی کی شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش، اڈیشہ، دہلی، چھتیس گڑھ، اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں چرچ پر حملے ہو رہے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کیرالہ میں انتخاب آنے پر چرچ کی دعائیہ تقریب میں شامل ہوتے ہیں، لیکن ان پر ہونے والے حملوں پر خاموش رہتے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف قابل اعتراض، شعلہ انگیز اور تفریق آمیز بیانات کو حوصلہ بخشا جا رہا ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے تلخ تیور اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کو حقائق سے روشناس کرانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی ترجمان بننے کے لیے کوالیفکیشن ہے ’ہیٹ اسپیچ‘۔ جو جتنا زیادہ اقلیتوں کے خلاف بولے گا، وہ بی جے پی کا اتنا بڑا محافظ ہے۔ لیکن اس سے ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے اور آئین کی قدریں بھی کمزور ہو رہی ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہمیں تکلیف ہے کہ عزت مآب صدر نے غریبی اور کمزور طبقہ کی تکلیف کو خود دیکھا ہے، لیکن ان کی تقریر میں ان کی فکر سے متعلق کوئی جھلک نہیں ہے۔ کیا آپ ترقی یافتہ ہندوستان کو نفرت اور تقسیم کی بنیاد پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
مودی حکومت میں کئی بلوں کو جلدبازی میں اور جبریہ انداز اختیار کر کے پاس کرائے جانے پر کھڑگے نے اپنی فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت منمانے طریقے سے ملک پر نئے قانون تھوپنا چاہتی ہے، اسی لیے تمام بل زبردست پاس کیے جاتے ہیں۔ اپوزیشن کے مطالبہ کے باوجود ان پر نہ تو بحث ہوتی ہے اور نہ ہی جانچ کے لیے کمیٹیوں کو بھیجا جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یو پی اے حکومت میں 14ویں اور 15ویں لوک سبھا میں 455 بل میں سے 315 بل پارلیمانی کمیٹیوں کو بھیجے گئے، جبکہ بی جے پی کی حکومت میں 421 بل میں سے صرف 77 بل ہی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گئے۔ یہ ہے بی جے پی کی پالیسی۔ صدر جمہوریہ جی نے کہا– سب کا ساتھ، سب کا وِکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس... لیکن بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ میں نہ تو سب کو ’وِشواس‘ (اعتماد) میں لیا اور نہ ہی کوئی ’پریاس‘ (کوشش) کیا۔‘‘
مودی حکومت کی خارجہ پالیسیوں کے تعلق سے بات کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’ہندوستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ریکارڈ 116 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جو لوگ چین کو ’لال آنکھ‘ دکھانے کی باتیں کرتے تھے، آج وہی چین کے آگے ٹریڈ کا ’ریڈ کارپیٹ‘ بچھا رہے ہیں۔ دوسری طرف چین گلوان کے بعد لداخ اور اروناچل پردیش پر دعویٰ ٹھوک رہا ہے، ہندوستان کے ساتھ معاشی رشتے اپنی شرطوں پر طے کر رہا ہے۔‘‘ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’یہ مضبوطی نہیں، ’اسٹریٹجک سرینڈر‘ ہے، جس کی قیمت ملک ادا کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ ٹریڈ تب بڑھ رہا ہے جب پہلگام حملہ کے بعد چین نے پاکستان کی خفیہ مدد کی تھی۔‘‘
نیپال کے حوالہ سے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ’’ہمارا سب سے قریبی پڑوسی نیپال اب چین کے ساتھ مل رہا ہے اور نیپال ہندوستان کے کالا پانی، لپولیکھ اور لمپیادھورا جیسے علاقوں پر دعویٰ کر رہا ہے۔ 1971 کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش، چین اور پاکستان قریب آ چکے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں پر حملے ہو رہے ہیں، لیکن مودی حکومت خاموش ہے۔ میں حکومت سے کہتا ہوں کہ اسے روکو اور بنگلہ دیش سے کہو کہ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ اگر ہم نہیں روکیں گے تو کل ہمارا بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘
خارجہ پالیسی کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’خارجہ پالیسی کی ناکامیاں صرف بیرون ممالک تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ داخلی سیکورٹی کی خطا بن کر ملک کے اندر اٹھتی ہیں۔ 2014 کے عبد سے اب تک 2300 سے زیادہ دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں، جن میں تقریباً ایک ہزار ہندوستانیوں کی جان گئی۔‘‘ وہ یہ بھی کہنے سے گریز نہیں کرتے کہ ’’خارجہ پالیسی کو مودی حکومت گھریلو پولرائزیشن کا اسلحہ بنانا چاہتی ہے، جو غلط ہے۔ انتخابی فائدے کے لیے ایسا غلط استعمال ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔