سپریم کورٹ نے ’این ایس اے‘ کے تحت سونم وانگچک کی حراست پر مرکزی حکومت سے دوبارہ غور کرنے کو کہا
عدالت نے کہا کہ ’’حراست میں سونم وانگچک کی صحت یقینی طور پر خراب ہے۔ جو رپورٹ ہم نے پہلے دیکھی تھی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی صحت اتنی اچھی نہیں ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے بدھ (4 فروری) کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست سے متعلق عرضی پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے مرکزی حکومت سے وانگچک کو این ایس اے (نیشنل سیکورٹی ایکٹ) کے تحت حراست میں لینے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا ہے۔ جسٹس اروند کمار اور پی بی ورالے کی بنچ وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو کے ذریعہ ان کی ’احتیاطی حراست‘ کے خلاف داخل کی گئی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے مرکز کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج سے کہا کہ سونم وانگچک کی حالت ٹھیک نہیں ہے، وہ تقریباً 5 ماہ سے جیل میں ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ’’حراست میں سونم کی صحت یقینی طور پر خراب ہے۔ جو رپورٹ ہم نے پہلے دیکھی تھی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی صحت اتنی اچھی نہیں ہے۔ عمر سے متعلق کچھ علامات ہو سکتی ہیں، یا شاید کچھ اور بھی وجہ ہو سکتی ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’کیا حکومت کی جانب سے اس پر نظر ثانی یا اس پر پھر سے غور کرنے کا کوئی امکان ہے؟‘‘ اس پر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی اس تجویز کو افسران کے سامنے رکھیں گے۔
آج کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے دلیل دی کہ سونم وانگچک گزشتہ سال لیہ میں ہونے والے تشدد کے لیے ذمہ دار تھے۔ اس واقعہ میں 4 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 161 لوگ زخمی ہوئے تھے، ان کی اشتعال انگیز تقریر ہی کافی تھی۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے میں صرف حراستی حکم کو ہی چیلنج دیا گیا ہے۔
کے ایم نٹراج نے کہا کہ ’’حراستی حکم کو ریاستی حکومت نے 10 مارچ 2025 کو منظوری دی تھی۔ ریاستی حکومت کے منظوری کے حکم یا تصدیقی حکم کو کوئی چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ صرف حراست کو ہی چیلنج دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک مشاورتی بورڈ نے وانگچک کی حراست پر اپنی رپورٹ دی تھی۔ مشاورتی بورڈ جودھپور گیا تھا، وانگچک نے کارروائی میں حصہ لیا تھا، انہوں نے اپنا موقف رکھا تھا، انہیں دیے جا سکنے والے مواقع سے انہیں محروم نہیں کیا گیا تھا۔ تمام پہلوؤں کی تحقیقات کرنے کے بعد مشاورتی بورڈ نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔