قومی خبریں

چور چوری کرتے رہے اور آر ایس ایس-بی جے پی سے وابستہ لوگ ’میں بھی چوکیدار’ کہتے ہوئے مسلسل سوتے رہے: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے رام مندر میں مبینہ چندہ چوری کے متعلق ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’چور چوری کرتے رہے اور آر ایس ایس-بی جے پی سے وابستہ لوگ ’میں بھی چوکیدار‘ کہتے ہوئے مسلسل سوتے رہے! یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا!‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

رام مندر میں مبینہ چندہ چوری کا معاملہ کئی ماہ سے سرخیوں میں ہے۔ اس معاملہ پر کانگریس مسلسل آواز اٹھا رہی ہے۔ اس معاملے پر کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک بار پھر بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ کا آغاز کچھ اس طرح کیا ہے ’’چندہ چوری، عقیدت کے ساتھ دھوکہ۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کئی اہم سوالات اٹھائے کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اجے سنگھ بشٹ خاموشی توڑیے! ملک جاننا چاہتا ہے کہ چندہ چور کون ہیں؟ اس میں کون کون شریک ہیں؟ سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ کیوں نہیں؟ جب انتباہات آتے رہے تو چوریاں کیسے جاری رہیں؟ ذمہ دار کون ہے؟ بڑے چوروں کو آج بھی کیوں بچایا جا رہا ہے؟‘‘

کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں 3 اہم نکات پیش کرتے ہوئے رام مندر چندہ چوری معاملے میں وضاحت طلب کی۔ انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ آڈٹ فرم کے مشورے کو ردی کی ٹوکری میں کیوں ڈال دیا گیا؟ ٹرسٹ کے قیام (5 فروری 2020) کے چند ماہ بعد، نومبر 2020 میں ایک پرائیویٹ آڈٹ فرم نے ٹرسٹ کو ’انٹرنل آڈٹ اور رسک مینجمنٹ‘ کے سلسلے میں مشورے دیے تھے۔ فرم نے واضح طور پر لکھا:

  • مینجمنٹ ’انتہائی غیر پیشہ ورانہ‘ ہے؛ کس کی کیا ذمہ داری ہے، یہ طے نہیں۔

  • عطیات کا کوئی منظم ریکارڈ نہیں۔

  • لین دین اور ڈیٹا انٹری کی دوسری یا تیسری جانچ نہیں۔

  • ہزاروں ملازمین ہیں، لیکن کوئی ایچ آر ڈپارٹمنٹ نہیں۔

  • بینک ریکنسیلی ایشن اور اکاؤنٹنگ کے لیے اہل عملہ نہیں ہے۔

  • آئی ٹی کمپنی کے ڈیٹا کی سیکورٹی اور ویریفکیشن کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’خبردار کیا گیا تھا کہ غیر پیشہ ور عملے اور ڈیٹا کے ناقص انتظام کی وجہ سے غلط معلومات اور گمراہ کن رپورٹنگ ہوگی۔ مشورہ دیا گیا تھا کہ ہر لین دین، ڈیٹا اور عملے کے لیے ایس او پی بنایا جائے اور زیورات جیسے عطیات کے لیے باقاعدہ اسٹاک رجسٹر رکھا جائے۔ 6 سال گزرنے کے باوجود ایس او پی نافذ نہیں کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 2026 میں حکومت کی جانب سے معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے بنائی گئی ایس آئی ٹی نے بھی تسلیم کیا کہ گنتی والے کمرے سے 105 مرتبہ نقد رقم نکالی گئی، جبکہ ملازمین کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں ڈھانپ دیتے تھے۔‘‘

جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں دوسرا اہم معاملہ یہ اٹھایا کہ ’’جس انجینئر نے 40 فیصد کمیشن کے بارے میں خبردار کیا،اسے ہی ہٹا دیا گیا! مندر کی تعمیر سے وابستہ انجینئر دینا ناتھ ورما نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے چمپت رائے کو بتایا تھا کہ ٹھیکوں میں 40 فیصد کمیشن لیا جا رہا ہے، فرضی مزدور (گھوسٹ ورکرز) دکھائے جا رہے ہیں اور سامان کی مقدار بڑھا چڑھا کر بلوں میں درج کی جا رہی ہے۔ ورما کا کہنا ہے کہ کارروائی کرنے کے بجائے انہیں ہی ہٹا دیا گیا۔‘‘

کانگریس لیڈر نے تیسرا اہم معاملہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’بیش قیمتی عطیات کی رسید تک نہیں تھی! جانچ میں ایسی درجنوں قیمتی اشیاء سامنے آئیں، جن کے لیے عطیہ دینے والوں کو رسید تک جاری نہیں کی گئی تھی۔ جب 2020 میں ہی تحریری طور پر خطرے سے آگاہ کر دیا گیا تھا تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ شکایت کرنے والے کو ہی کیوں ہٹا دیا گیا؟ عقیدت مندوں کے قیمتی عطیات کی رسید تک کیوں نہیں کاٹی گئی؟‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’چور چوری کرتے رہے اور آر ایس ایس-بی جے پی سے وابستہ لوگ ’میں بھی چوکیدار‘ کہتے ہوئے مسلسل سوتے رہے! یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا!‘‘

جے رام رمیش ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’بات بالکل واضح ہے کہ جن لوگوں کو دیوتا کے نام پر دیے گئے عطیات کی حفاظت کی ذمہ داری، یعنی ٹرسٹ کی نگرانی اور چوکیداری، سونپی گئی تھی، انہوں نے جان بوجھ کر اس نظام کو ایسی حالت میں کیوں رہنے دیا، جس میں چڑھاوے کی رقم اور قیمتی عطیات کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھے؟ کیا یہ محض لاپروائی تھی یا چوروں کو تحفظ دیا جا رہا تھا؟ کس کو تحفظ دیا گیا اور کن کن بڑے لوگوں کی ملی بھگت یا شراکت داری تھی، اس کی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’ملک کے عوام کو آپ کی سرکاری ایس آئی ٹی کی جانچ پر بھروسہ نہیں ہے۔ جب انتباہات، شکایات اور سی سی ٹی وی میں سامنے آئے 105 واقعات کے باوجود بڑے ذمہ دار لوگوں کے کردار پر سوالات برقرار ہیں تو صرف چند ملازمین کے خلاف کارروائی سے پورا معاملہ کیسے ختم ہو سکتا ہے؟‘‘

کانگریس لیڈر نے پوسٹ کی آخر میں لکھا کہ ’’کانگریس کا مطالبہ واضح ہے، پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ آڈٹ کی تنبیہات، ٹھیکوں میں مبینہ کمیشن خوری، پوری ہیر پھیر اور قیمتی عطیات کا مکمل حساب سامنے آنا چاہیے۔ 6 سال سے جاری چوری کے مکمل اعداد و شمار اور تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ ہر ذمہ دار شخص کے کردار کی جانچ ہو اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ رام کے نام پر آئے چڑھاوے کا حساب ملک مانگ رہا ہے۔ عقیدت مندوں کی عقیدت کسی کو بھی جواب دہی سے بچنے کا حق نہیں دیتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔