رام مندر چندہ چوری: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

جے رام رمیش نے ایودھیا کے رام مندر میں چندہ چوری کے الزامات پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ تحقیقات، چندے کا مکمل حساب اور تمام ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایودھیا میں شری رام مندر کے چندے میں مبینہ چوری کے معاملے پر اتر پردیش حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل سے لے کر اس کی رپورٹ تک، پورا عمل ملزموں کو راحت پہنچانے کے مطابق انجام دیا گیا اور بڑے عہدیداروں کو بچایا گیا۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ رام کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی مندر کے چندے میں چوری کے الزامات پر خاموش ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کا عنوان ’چندہ چوری، آستھا دھوکہ‘ رکھتے ہوئے کہا کہ مذہبی عقیدت کے نام پر جمع ہونے والی رقم میں بے ضابطگیوں کے معاملے میں ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔

کانگریس لیڈر کے مطابق، 4 جون 2026 کو ایودھیا کے شری رام مندر میں چوری کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا، لیکن اتر پردیش حکومت نے مندر ٹرسٹ کی درخواست پر نو دن بعد، 13 جون کو ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 17 اگست کو محکمہ داخلہ نے تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ ٹرسٹ کے حوالے کردی، جس میں توقع کے مطابق چمپت رائے اور انیل مشرا کو کلین چٹ دے دی گئی۔


جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 27 اپریل سے 5 جون 2026 کے درمیان کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں رقم گننے والے ملازمین کو نوٹوں کی گڈیاں چھپاتے ہوئے 105 مرتبہ دیکھا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب چوری کی وارداتیں کیمروں میں قید ہوئیں تو پھر اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں؟

انہوں نے مندر کے خزانے کی نگرانی اور مالی ذمہ داریوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خزانے کی ذمہ داری ٹرسٹ کے خزانچی گووند گری پر تھی، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ رقم کہاں سے آرہی ہے اور کہاں جارہی ہے۔ اس کے باوجود، جے رام رمیش کے مطابق، 7 جولائی کو گووند گری نے اس معاملے میں چمپت رائے کے کسی کردار سے انکار کردیا۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ چوری کی مجموعی رقم یا قیمتی اشیا کی تفصیلات اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے 23 جون کی ابتدائی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نگرانی کے ضابطوں پر عمل نہیں کیا جارہا تھا اور کنٹرول روم بھی کئی مرتبہ خالی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب چوری کی مجموعی مالیت ہی واضح نہیں کی گئی تو تحقیقات بند کیسے کردی گئیں؟

جے رام رمیش کے مطابق، 25 جون کو ایف آئی آر درج ہوئی اور اگلے روز رقم گننے کے کام سے وابستہ آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن ٹرسٹ کے کسی سابق عہدیدار کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ذریعے سخت پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی؟


کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، چندے کا مکمل حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور تمام ذمہ دار افراد کے کردار کی جانچ کرکے کسی کو بھی جواب دہی سے بچنے نہ دیا جائے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ اجے سنگھ بشت اور وزیر اعظم نریندر مودی ساڑھے چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود خاموش ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بدعنوانی کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔