ایم ایل سی انتخاب: بہار اور یوپی سمیت 4 ریاستوں کی 28 نشستوں پر گنتی شروع، سیکورٹی سخت

ایم ایل سی کے انتخابات میں اتر پردیش کی 11، بہار کی 8، مہاراشٹر کی 5 اور کرناٹک کی 4 نشستیں شامل ہیں۔ چاروں ریاستوں میں گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 14-14 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

بہار، اتر پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ چاروں ریاستوں میں صبح 8 بجے سے گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ ان انتخابات کے نتائج پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے این ڈی اے اور اپوزیشن جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ خاص طور پر اتر پردیش اور بہار میں مقابلے کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔

گنتی کو غیر جانبدارانہ، پرامن اور شفاف طریقے سے مکمل کرانے کے لیے انتظامیہ نے سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ گنتی مراکز پر کافی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی، سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی اور غیر مجاز افراد کے داخلے پر پابندی جیسے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر نے گنتی مکمل ہونے تک مراکز پر کافی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ دوسری جانب بہار کے دربھنگہ میں گنتی مرکز کے آس پاس امتناعی احکامات نافذ کرنے، بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور ٹریفک کا نظام درست رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔


واضح رہے کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اتر پردیش کی 11، بہار کی 8، مہاراشٹر کی 5 اور کرناٹک کی 4 نشستیں شامل ہیں۔ چاروں ریاستوں میں گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 14-14 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔ ان نشستوں کے نتائج سے مختلف سیاسی جماعتوں کی پوزیشن واضح ہوگی۔ بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ ان میں گریجویٹ کے 4 (پٹنہ، دربھنگہ، ترہت اور کوسی) اور اساتذہ کے 4 (پٹنہ، دربھنگہ، ترہت اور سارن) انتخابی حلقے شامل ہیں۔

اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ ان میں گریجویٹ کے 5 (لکھنؤ ڈویژن، وارانسی ڈویژن، آگرہ ڈویژن، میرٹھ ڈویژن اور الٰہ آباد-جھانسی ڈویژن) اور اساتذہ کے 6 (لکھنؤ ڈویژن، وارانسی ڈویژن، آگرہ ڈویژن، میرٹھ ڈویژن، بریلی-مرادآباد ڈویژن اور گورکھپور-فیض آباد ڈویژن) انتخابی حلقے شامل ہیں۔ ریاست میں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے درمیان مقابلے پر خاص نظر ہے۔ ریاست میں گنتی لکھنؤ، وارانسی، آگرہ، میرٹھ، جھانسی، بریلی اور گورکھپور کے مقررہ مراکز پر کرائی جا رہی ہے۔ گنتی کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی اور ویڈیو گرافی کا انتظام کیا گیا ہے۔ مراکز پر کافی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات رکھنے اور بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آنے دینے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔


کرناٹک قانون ساز کونسل کی 4 نشستوں پر بھی ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ ان میں گریجویٹ کے 2 اور اساتذہ کے 2 انتخابی حلقے شامل ہیں۔ اسی طرح مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی 5 نشستوں پر بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ان میں گریجویٹ کے 3 اور اساتذہ کے 2 انتخابی حلقے شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چاروں ریاستوں میں گنتی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتظامی تیاریاں کی گئی ہیں۔ گنتی مراکز میں داخلہ مقررہ ضابطوں کے مطابق ہوگا۔ افسران کو گنتی کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے اور کسی بھی طرح کی بدنظمی سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔