کانگریس نے رام مندر نذرانہ چوری پر اٹھائے سوالات، وزیر اعظم مودی سے مانگا جواب

جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آج اتر پردیش جا رہے ہیں، تو ہمیں امید ہے کہ اس دورے کے دوران وہ اس سنگین معاملے پر اپنی خاموشی توڑیں گے اور ملک کے عوام کے سوالوں کا جواب دیں گے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ اترپردیش میں واقع ایودھیا رام مندر چندے اور نذرانے کو خرد برد کیے جانے کے معاملے پر جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی سے جواب طلب کیا اور کہا کہ ملک کے عوام شدت سے انتظار کر رہے ہیں کہ قصور واروں کو سزا دی جائے۔ سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ بھگوان کے لیے وقف رقم، یعنی دیو درویہ کی چوری، یعنی چندے اور چڑھاوے کی چوری کو ’مہاپاپ‘ (عظیم گناہ) مانا گیا ہے۔ ایسا ہی ’مہاپاپ‘ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذریعہ ایودھیا کے شری رام مندر میں سامنے آیا ہے، لیکن پورے معاملے کو دبانے اور بڑے چوروں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جن بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو وزیر اعظم مودی نے خود ٹرسٹی کے طور پر بغیر کسی عوامی بحث کے منتخب کیا تھا، جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان کی نگرانی میں ملک کے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کو ٹھیس پہنچانے والا یہ گھناؤنا ’پاپ‘ (گناہ) ہوا ہے، تو رام مندر کا سہرا اپنے سر لینے میں سب سے آگے رہنے والے وزیر اعظم اب خاموشی اختیار کر کے ’مہاپاپیوں‘ کو بچانے کی مذموم کوشش کیوں کر رہے ہیں؟

جے رام رمیش نے اس پورے معاملے پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اور ٹرسٹ کے مطابق ندھی سمرپن ابھیان (2021) کے دوران ندھی سمرپن اور کارپس عطیات کو ملا کر 3264 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ 2024 کے 9 مہینوں میں 13.55 کروڑ عقیدت مند ایودھیا پہنچے۔ وہیں 2025 میں مہاکمبھ کے دوران تقریباً 10 کروڑ مزید عقیدت مند ایودھیا آئے۔ ایسے میں یکم اپریل 2025 سے 28  فروری 2026 تک 16 کروڑ عقیدت مندوں کی آمد بتائی گئی، جبکہ کل نذرانہ محض 82.78  کروڑ روپے (فی شخص اوسطاً 5 روپے) بتایا گیا، جو عقیدت مندوں کی اتنی بڑی تعداد کے مقابلے میں انتہائی مشتبہ سمجھا جا رہا ہے۔


مندر تعمیراتی کمیٹی کے صدر نریپیندر مشرا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ محض چوری نہیں، بلکہ ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ اس کے باوجود نریندر مودی، امت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کے بجائے چوروں کے گناہوں پر پردہ کیوں ڈال رہے ہیں؟ مانا جاتا ہے کہ انصاف ہونا بھی چاہیے، اور ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ لیکن اس پورے معاملے میں نہ تو انصاف ہوا ہے اور نہ ہی انصاف کرنے کی کوئی کوشش نظر آ رہی ہے۔ ملک کے عوام کے ذہنوں میں 4 اہم سوالات ہیں، جن کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے:

  • ملک بھر میں کل کتنے کروڑ لوگوں نے کتنے ہزار کروڑ روپے کا چندہ دیا؟

  • عطیہ پیٹیوں (ہنڈیوں/کاؤنٹروں) میں کل کتنا نذرانہ جمع ہوا؟

  • چندے اور نذرانے کی یہ چوری مجموعی طور پر کتنے ہزار کروڑ روپے کی ہے، اور حکومت اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے خاموش کیوں ہے؟

  • تقریباً 30 کروڑ عقیدت مندوں کے نذرانے کا حساب کہاں ہے؟ ایس آئی ٹی نے 80 لاکھ روپے کی چوری بتا کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کیوں کی؟

جے رام رمیش نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آج اتر پردیش جا رہے ہیں، تو ہمیں امید ہے کہ اس دورے کے دوران وہ اس سنگین معاملے پر اپنی خاموشی توڑیں گے اور ملک کے عوام کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ اگر وہ ایک بار پھر اس اہم مسئلے پر خاموش رہ کر کسی دوسرے معاملے کی آڑ میں ملک کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ جان لیں کہ کانگریس اس پورے معاملے کی سچائی سامنے لا کر رہے گی۔ جن ’مہاپاپیوں‘ نے چندے اور نذرانوں کی چوری کی ہے، انہیں آئین کے مطابق سزا ضرور دلوائی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔