’بی جے پی، آر ایس ایس، وی ایچ پی کا سپنا–چندے کا مال اپنا؟‘ رام مندر چندہ چوری معاملہ پر کانگریس پھر حملہ آور

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’رام مندر میں صرف چندہ کی چوری نہیں ہوئی، رام مندر تعمیر کے لیے ملک کے کروڑوں لوگوں سے جو ہزاروں کروڑ روپے چندے کی شکل میں اکٹھا کیے گئے، اس میں بھی ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i

رام مندر میں مبینہ چندہ چوری کا معاملہ کئی ماہ سے سرخیوں میں ہے۔ اس معاملہ پر کانگریس مسلسل آواز اٹھا رہی ہے اور اس نے ایک بار پھر بی جے پی کے ساتھ ساتھ ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کو نشانے پر لیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ کا آغاز کچھ اس طرح کیا ہے ’’بی جے پی، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد کا سپنا–چندے کا مال اپنا؟‘‘

جئے رام رمیش نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’رام مندر میں صرف چندہ کی ہی چوری نہیں ہوئی ہے، رام مندر تعمیر کے لیے ملک کے کروڑوں لوگوں سے جو ہزاروں کروڑ روپے چندے کی شکل میں اکٹھا کیے گئے، اس میں بھی ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’آپوزیشن کے ذریعہ بار بار سوال اٹھائے جانے کے باوجود اقتدار میں بیٹھے لوگ بی جے پی، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد سے جڑے لوگوں پر لگے الزام کے باوجود نہ کوئی جانچ ہوئی نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔‘‘


کانگریس جنرل سکریٹری نے برسراقتدار طبقہ پر الزام عائد کیا ہے کہ کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جواب اب تک نہیں دیے گئے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہم رام مندر ٹرسٹ کے باگ بجیسی کانٹریکٹ پر بی جے پی سے اپنے سوالوں کو دہرانا چاہیں گے...۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد انھوں نے 3 سوالات پیش کیے ہیں، جو اس طرح ہیں:

  1. کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 18 مارچ 2021 کو شام 7.10 بجے تیواری-انصاری نے کسم پاٹھک سے زمین 2 کروڑ روپے میں خریدی اور 7.15 بجے وہی زمین ٹرسٹ نے چمپت رائے کے ذریعہ 18.5 کروڑ میں لے لی؟ 5 منٹ میں 825 فیصد کا ڈاکہ کیسے ہونے دیا گیا!

  2. کیا یہ سچ نہیں ہے کہ دونوں رجسٹریوں پر گواہ ایک ہی تھے... اُس وقت کے بی جے پی میئر رشی کیش اپادھیائے اور ٹرسٹی انل مشرا؟

  3. کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 2021 کی جانچ رپورٹ 5 سال بعد بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی؟ زمین سودوں پر ایس آئی ٹی جانچ کا نتیجہ کب آئے گا؟

مذکورہ بالا سوالات کو قائم کرنے کے بعد جئے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم سے ہمارا براہ راست سوال ہے کہ اپنی ناک کے نیچے یہ چندہ چوری اور عطیہ چوری ہوتی رہی، انھوں نے اسے اپنی خاموش اجازت دے کر گناہ کے شریک کیوں بنے؟‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ایم مودی نے اس معاملہ میں اب تک خاموشی اختیار کیے رکھی ہے، اس لیے امید کم ہی ہے کہ جئے رام رمیش کو ان کے سوالوں کا جواب ملے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔