ووٹروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی اطلاع دینے والوں کو ایک ملین ڈالر انعام دیں گے ٹرمپ

وائٹ ہاؤس نے اب تک وضاحت نہیں کی ہے کہ انعام کی رقم کس طرح دی جائے گی، کون سی ایجنسی اس عمل کی نگرانی کرے گی یا قانونی بنیاد کیا ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل ایک ملین ڈالر انعام دینے کا انوکھا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق جو شخص ووٹروں کے ساتھ دھوکہ دہی سے متعلق اطلاع دے گا، جس کی بنیاد پر گرفتاری اور سزا ہوگی، اسے یہ انعام دیا جائے گا۔ پیر کے روز ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں ایک ملین ڈالر کا بونس یا انعام دینے جا رہا ہوں۔ بات چیت کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے کہا کہ انہوں نے پہلے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر کوئی غیر امریکی شہری ووٹ دیتا ہے تو اسے خود بخود ملک بدر کر دیا جائے گا۔ صحافی نے پوچھا کہ کیا اس سے انتخابی نظام بہتر ہوگا اور کیا اس پیغام کو ان کی تمام انتخابی ریلیوں میں دہرایا جانا چاہیے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میرے خیال میں ہاں، ہم ایسا کر رہے ہیں اور ہم نے اس عمل کی شروعات بھی کر دی ہے۔

حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اب تک وضاحت نہیں کی ہے کہ انعام کی رقم کس طرح دی جائے گی، کون سی ایجنسی اس عمل کی نگرانی کرے گی یا قانونی بنیاد کیا ہوگی۔ امریکہ میں وفاقی انتخابات میں غیر شہریوں کی جانب سے ووٹ دینا پہلے ہی وفاقی جرم ہے۔ موجودہ قانون کے تحت ایسا کرنے پر جرمانہ، قید اور ملک سے بے دخلی جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ میں مقیم تارکین وطن کی توجہ حاصل کر سکتا ہے، جن میں بڑی تعداد ہندوستانی نژاد افراد کی بھی ہے۔ گرین کارڈ رکھنے والے اور عارضی ورک ویزا پر رہنے والے ہندوستانی شہری وفاقی انتخابات میں ووٹ دینے کے اہل نہیں ہوتے۔ بعض سماجی تنظیموں نے پہلے بھی یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ ووٹر فہرستوں کی سخت جانچ کے دوران کہیں قانونی طور پر امریکی شہریت حاصل کر چکے شہریوں کو غلطی سے مشتبہ نہ سمجھ لیا جائے۔


منگل کے روز ٹیکساس کے کارپس کرسٹی اور لباک میں ٹرمپ کی انتخابی ریلیاں طے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس مشیگن کے ہاول میں انتخابی مہم چلائیں گے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے امریکی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ پیر کے روز بات چیت کے دوران انہوں نے بیرون ملک ہونے والے انتخابات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ برازیل میں ووٹوں کی گنتی صحیح نظر نہیں آئی۔ وہیں اسرائیل کے انتخابات میں 2 امیدواروں کی حمایت کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی انہوں نے دفاع کیا۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈران نے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابات سے قبل ووٹروں کو ڈرانے کے لیے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔ مختلف ریاستوں کے انتخابی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کے ذریعہ ووٹ ڈالنے کے معاملے کم سامنے آتے ہیں۔ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ ملک بھر میں کئی ہندوستانی نژاد امریکی امیدوار بھی ان انتخابات میں قسمت آزما رہے ہیں۔