ویڈیو گریب
کانگریس نے ایک بار پھر پیپر لیک معاملے پر بی جے پی حکمراں ریاستوں کو نشانے پر لیا ہے۔ پیپر لیک کے لیے بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے طلبا کی فکر ہی نہیں ہے، اس لیے انصاف مانگنے والوں کو ظلم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ کانگریس نے ہماچل پردیش میں وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کی قیادت والی حکومت کی اس معاملے میں تعریف کی ہے جہاں پیپر لیک کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو جاری کر پہلے تو پیپر لیک معاملہ کی تلخ حقیقت سامنے رکھی ہے، اور پھر ہماچل پردیش کی کانگریس حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کا ذکر کیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن دیا گیا ہے ’نوجوان کا روشن مستقبل، کانگریس کا عزم‘۔ ویڈیو کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے ’’کچھ تو بے شرمی اور آتم مگدھتا (خود پرستی) رہی ہوگی، یوں ہی 7 سال میں 70 سے زیادہ پیپر لیک نہیں ہوتے۔‘‘
Published: undefined
ویڈیو میں گزشتہ سال پیپر لیک سے پریشان حال طلبا کی کلپ کے ساتھ ساتھ اخبارات میں شائع پیپر لیک کی خبروں کا تراشہ دکھایا گیا ہے۔ پیپر لیک کے بعد دوبارہ امتحان کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبا کے احتجاجوں اور پولیس کے ذریعہ طلبا پر لاٹھی چارج کی کلپ بھی ویڈیو میں شامل کی گئی ہے۔ بیک گراؤنڈ سے آواز دی گئی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ ’’ملک میں پیپر لیک سے نوجوان پریشان ہیں۔ ملک میں پچھلے 7 سال میں 70 سے زیادہ پیپر لیک ہو چکے ہیں۔ نوجوان انصاف مانگتے ہیں، لیکن ان پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔‘‘
Published: undefined
ویڈیو میں آگے کہا جاتا ہے کہ ’’راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، بہار، اتراکھنڈ سبھی جگہ (پیپر لیک کا) یہی حال ہے۔ لیکن ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت نوجوانوں کے سبھی خواب پوری کر رہی ہے۔‘‘ پیپر لیک کے خلاف ہماچل پردیش حکومت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’پیپر لیک کے خلاف سخت قانون بنائے گئے ہیں۔ پیپر لیک کرنے والوں کو 5 سال قید کی سزا ملے گی۔ ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ بھی دینا ہوگا۔ پیپر کروانے والی ایجنسی کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔‘‘ کانگریس نے ہماچل پردیش میں شفافیت کے ساتھ امتحانات کا انعقاد کرائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’خدمت اور سروکار، یہی ہے کانگریس سرکار‘۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined